مذہبی آزادی بل پر اپوزیشن کی مخالفت سیاسی مفادات پر مبنی: فڑنویس
ممبئی ، 16 مارچ (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ مذہبی آزادی بل کی مخالفت کرنے والے دراصل سیاسی فائدے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون کسی بھی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ جبری یا دھوکہ دے کر ہونے والی تبدیل
Politics Maha Conversion Bill Debate


ممبئی ، 16 مارچ (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ مذہبی آزادی بل کی مخالفت کرنے والے دراصل سیاسی فائدے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون کسی بھی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ جبری یا دھوکہ دے کر ہونے والی تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اگر کوئی دھمکی، لالچ یا دھوکہ دے کر ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر لے جایا جاتا ہے اور بعد میں انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے سنگین سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس قانون کے ذریعے ایسے معاملات کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس وقت مہاراشٹر اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور جلد ہی اس بل پر ایوان میں تفصیلی بحث ہونے والی ہے۔ اس دوران سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو اعظمی اور رئیس شیخ نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18 سال کی عمر کے بعد کسی بھی شخص کو اپنی مرضی سے شادی اور مذہب تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ قانون مسلمانوں کے خلاف لایا جا رہا ہے۔اس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ اس طرح کے قوانین ملک کی کئی ریاستوں میں پہلے ہی نافذ ہیں۔ انہوں نے مثال کے طور پر تمل ناڈو کا ذکر کیا جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے لیکن وہاں بھی ایسا قانون موجود ہے۔یہ بل گھریلو امور کے نائب وزیر پنکج بھوئیر نے جمعہ کے روز اسمبلی میں پیش کیا تھا اور ایوان نے اسے آواز کے ووٹ سے منظور کرتے ہوئے بحث کے لیے آگے بڑھا دیا۔ بل کے مطابق زبردستی یا لالچ دے کر تبدیلیٔ مذہب کروانے والوں کے لیے 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 14 کے تحت ایسی سرگرمیوں میں ملوث اداروں پر پابندی اور جرمانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے جبکہ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مند شخص کو متعلقہ سرکاری افسر کو 60 دن پہلے اطلاع دینا ضروری ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande