
جیلانی بانو اور ڈاکٹر جمال احمد اویسی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی جلسہ منعقد
علی گڑھ، 16 مارچ (ہ س)۔
معروف افسانہ نگار جیلانی بانو اور شاعر جمال اویسی کے انتقال پر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رشید احمد صدیقی ہال میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں دونوں مرحومین کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ صدر شعبہ پروفیسر قمر الہدی فریدی نے کہا کہ دونوں مرحومین نے اپنی ادبی خدمات سے اردو زبان و ادب کا دامن وسیع کیا۔ جیلانی بانو اور جمال اویسی کا تعلق علمی طور پر علی گڑھ سے بھی تھا۔ جیلانی بانو نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی۔ انہوں نے حیدرآباد کے کلچر اور اس کی روح کو اپنے ناول ایوان غزل میں پیش کیا ہے، انہوں نے متعدد ترجمے بھی کیے، خود ان کی کتابوں کے بھی متعدد زبانوں میں ترجمے ہوئے۔
انھیں پدم شری کے علاوہ دیگر کئی ادبی انعامات سے نوازا گیا۔ پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ جیلانی بانو ایک اچھی فنکارہ تھیں جنہوں نے اپنے زمانے کو فکشن میں پیش کیا، انہوں نے فن کی مہارت کے ساتھ مسائل و موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کی شناخت تو افسانہ ہے مگر ناول ایوان غزل ماسٹر پیس ہے۔ جمال اویسی کے تعلق سے انھوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے شاعر تھے، انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تعزیتی جلسے کا مقصد صرف مرحومین کو یاد کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تحریک بھی ہے کہ طلبا ان کی تخلیقات کا مطالعہ کریں اور اس سے روشنی حاصل کریں۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ جیلانی بانو ایک مشرقی خاتون تھیں جسے انہوں نے اپنے فکشن کا موضوع بنایا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہ ہونے کے باوجود ترقی پسندتھیں۔ ڈاکٹر خالد سیف اللہ نے کہا کہ جمال اویسی ایک منفرد شاعر تھے مگر عام شاعروں کی طرح ان میں سنانے کی خواہش نہیں تھی بلکہ ان سے جب بار بار اصرار کیا جاتا تھا تب وہ اپنا کلام سناتے تھے۔ ان کی معتدد نظمیں بہت ہی خوبصورت اور گہری ہیں۔ ڈاکٹرامتیاز احمد نے جیلانی بانو کے انتقال پر تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے ان کی زندگی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ تعزیتی جلسے میں مرحومین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بلندی درجات کی دعا کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ