
نیوزی لینڈ اپنے پہلے بین الاقوامی میچ میں 91 رنوں پرہی سمٹ گئی۔
ماونٹ مونگانوئی، 15 مارچ (ہ س) جنوبی افریقہ کی ایک نوجوان ٹیم، جس میں چار ڈیبیو کھلاڑی شامل تھے، نے شاندار باولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتوار کو پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کو صرف 91 رنوں پر ڈھیر کر دیا اور پھر سات وکٹوں سے جیت درج کی۔
بے اوول میں کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 14.3 اوور میں 91 رن بنا کر آو¿ٹ ہو گئی۔ جواب میں جنوبی افریقہ نے ہدف 16.4 اوورمیں 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے میچ 20 گیندیں باقی رہ کر جیت لیا۔
جنوبی افریقہ کے اوپنر کونور ایسٹرہوزن نے 48 گیندوں پر ناقابل شکست 45 رن بنا کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ ڈیبیو کرنے والے ڈیون فورسٹر نے بھی بہترین مدد فراہم کی، وہ 16 رنز بنا کر ناٹ آو¿ٹ رہے۔ ایسٹرہائزن نے 17ویں اوور کی چوتھی گیند پر کائل جیمیسن کو چھکا لگا کر میچ کا اختتام کیا۔
نیوزی لینڈ کے اسپنرز نے پچ سے کچھ مدد کا استعمال کرتے ہوئے مختصر طور پر مقابلے میں واپسی کی کوشش کی۔ کپتان مچل سینٹنر نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے اپنے چار اوور میں صرف 8 رن دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
میچ کے بعد جنوبی افریقہ کے کپتان کیشو مہاراج نے کہا کہ ہمارے منصوبے مکمل طور پر کامیاب رہے اور باو¿لرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ ایک نوجوان باو¿لنگ اٹیک تھا، لیکن انہوں نے اپنے فرائض کو قابل ستائش طریقے سے نبھایا، آخر میں کچھ دباو¿ تھا، لیکن کونر اور ڈیان نے میچورٹی دکھائی اور ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
نیوزی لینڈ اپنے ورلڈ کپ اسکواڈ کے آٹھ کھلاڑیوں کے بغیر میچ میں داخل ہوا، جس میں اس کے ٹاپ چھ بلے باز بھی شامل تھے۔ ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرنے کے بعد کیویز نے پاور پلے میں پانچ وکٹیں گنوا کر تباہ کن آغاز کیا۔ اس کے بعد ٹیم صحت یاب ہونے میں ناکام رہی اور ٹی20 انٹرنیشنلز میں اپنا 10 واں کم ترین مجموعہ اسکور کیا۔
جنوبی افریقی فاسٹ باو¿لر جیرالڈ کوٹزی نے ابتدائی دھچکا لگاتے ہوئے ڈیون کونوے اور ٹام لیتھم کو آو¿ٹ کرتے ہوئے 14 رن کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ اوٹنیل بارٹ مین نے دو وکٹیں لے کر نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو مکمل طور پر تہس نہس کر دیا۔
19 سالہ نگوبانی موکوئینا نے پھر نچلے آرڈر کو چیرتے ہوئے 26 رن دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے جمی نیشم (26) اور مچل سینٹنر (15) نے 26 رنوں کی شراکت داری کی۔
موکوئینا کو ان کی شاندار کارکردگی کے لیے 'پلیئر آف دی میچ' قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ڈیبیو میچ میں کھیلنا میرے لیے ایک خاص تجربہ تھا۔ پہلے دو اوور اچھے نہیں گزرے لیکن میں نے اپنے پلان پر بھروسہ کیا اور آخر کار اس کا نتیجہ نکلا۔
میچ کے بعد نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے کہا کہ پچ سے ہماری توقع زیادہ تھی ، خاص طور پر ابتدائی اوورمیں،لیکن جنوبی افریقہ کے گیند بازوں نے شروع سے ہی ہم پر دباو¿ ڈالا، اور پاور پلے میں وکٹیں گنوانے کے بعدسنبھلنا مشکل ہو گیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی