
کولکاتا، 14 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال میں انتخابی فہرست کے ”منطقی تضاد“ کے زمرے میں نشان زد ووٹروں کی عدالتی جانچ کے عمل میں اب تک جن معاملوں کا جائزہ لیا گیا ہے ، ان میں تقریباً 34 فیصد نام ووٹر فہرست سے ہٹائے جانے کے قابل پائے گئے ہیں۔
ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ایک ذریعہ کے مطابق، جمعہ کی رات تک عدالتی جانچ کے لیے بھیجے گئے کل معاملات میں سے تقریباً 25 فیصد معاملوں کا ازالہ کیا جا چکا ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ منطقی تصاد کے زمرے میں مجموعی طور پر 60 لاکھ سے زائد معاملوں کی نشاندہی کرکے انہیں عدالتی جانچ پڑتال کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ان میں سے، تقریباً 15 لاکھ معاملوں میں تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، جو کہ کل معاملوں کا تقریباً 25 فیصد ہیں۔ ان 15لاکھ معاملوں میں سے پانچ لاکھ سے زیادہ معاملے ووٹر لسٹ سے نکالے جانے کے اہل پائے گئے ہیں، جو مکمل ہونے والی تحقیقات کے تقریباً 34 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی جمعے کی رات تک حذف شدہ ووٹروں کی کل تعداد 63 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل، گزشتہ سال دسمبر میں شائع ہونے والی مسودہ ووٹر فہرست سے’مردہ‘،’منتقل ہو چکے ‘، ’ڈپلیکیٹ‘ اور ’لاپتہ‘ زمروں میں 59لاکھ نام پہلے ہی حذف کیے جا چکے ہیں ۔
جن ووٹرز کے نام حذف کیے جائیں گے، انہیں سپریم کورٹ کی تازہ ترین ہدایت کے مطابق اپیلٹ ٹریبونل میں اپیل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس عمل کو مکمل کرنے کے لئے مجموعی طور پر 732 عدالتی افسران کام کر رہے ہیں، جن میں جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے 100 100-افسران بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل تسلی بخش رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ پہلی ضمنی فہرست اگلے ہفتے جاری کی جائے گی۔
گزشتہ ہفتے، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ایک فل بنچ نے کولکاتا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس سال ہونے والے اہم ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل عدالتی انکوائری مکمل ہو جائے گی اور تمام اہل ووٹر اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔
مغربی بنگال کے لیے حتمی ووٹر لسٹ، عدالتی جانچ کے لیے بھیجے گئے 60 لاکھ مقدمات کو چھوڑ کر، 28 فروری کو شائع کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، عدالتی جانچ کی پیشرفت کی بنیاد پر ضمنی فہرستیں بھی جاری کی جائیں گی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد