مرکز نے لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کے خلاف این ایس اے کو منسوخ کردیا
نئی دہلی، 14 مارچ (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے لداخ میں مقیم سماجی کارکن اور انجینئر سونم وانگچک کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کو فوری اثر سے منسوخ کر دیا ہے۔ وانگچک پہلے ہی ایکٹ کے تحت مقررہ حراستی مدت کا تقریباً نصف گزار چکے ہیں۔مرکزی وزارت داخل
مرکز نے لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کے خلاف این ایس اے کو منسوخ کردیا


نئی دہلی، 14 مارچ (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے لداخ میں مقیم سماجی کارکن اور انجینئر سونم وانگچک کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کو فوری اثر سے منسوخ کر دیا ہے۔ وانگچک پہلے ہی ایکٹ کے تحت مقررہ حراستی مدت کا تقریباً نصف گزار چکے ہیں۔مرکزی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کا ماحول پیدا کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری اور بامعنی بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے 24 ستمبر 2025 کو پرامن شہر لیہہ میں پیدا ہونے والی امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر، لیہہ کے ضلع مجسٹریٹ نے 26 ستمبر 2025 کو سونم وانگچک کو این ایس اے کے تحت حراست میں لینے کا حکم جاری کیا۔حکومت نے کہا کہ وہ خطے کے لوگوں کی امنگوں اور خدشات کو دور کرنے کے لیے لداخ میں مختلف اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کے رہنماو¿ں کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شٹ ڈاو¿ن اور احتجاج کے موجودہ ماحول نے معاشرے کے کئی طبقوں کو متاثر کیا ہے، جن میں طلبائ ، ملازمت کے متلاشی، تاجر، ٹورازم آپریٹرز اور سیاح شامل ہیں، اور لداخ کی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔حکومت نے امید ظاہر کی کہ خطے سے متعلق مسائل تعمیری تعاون اور بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے، بشمول اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی اور دیگر مناسب فورمز کے ذریعے۔ حکومت نے لداخ کی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

قابل ذکر ہے کہ وانگچک کی بیوی گیتانجلی جے انگمو نے ان کی نظر بندی کو غیر قانونی اور من مانی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس وقت کیس کی سماعت جاری ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں 17 مارچ کو وانگچک کی درخواست کی سماعت سے تین دن پہلے آیا ہے۔وانگچک لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے لیہہ میں احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ 24 ستمبر 2025 کو ان کا احتجاج پرتشدد ہو گیا۔ ان مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور 85 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دو دن بعد، 26 ستمبر کو، وانگچک کواین ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں راجستھان کی جودھ پور سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔این ایس اے حکومت کو ایسے افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دیتا ہے جو قومی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں۔ اس شق کے تحت کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande