مدھیہ پردیش کے سنگرولی میں اڈانی پاور پلانٹ میں ہنگامہ، مزدور کی موت کے بعد آتش زنی اور توڑ پھوڑ
سنگرولی، 14 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرولی کے ماڈا تھانہ علاقے کے تحت بدھورا میں واقع اڈانی پاور پلانٹ میں ہفتہ کی صبح اس وقت بڑا ہنگامہ کھڑا ہو گیا، جب ایک مزدور کی موت کے بعد ساتھی مزدور مشتعل ہوگئے۔ مشتعل مزدوروں نے پلانٹ کے احاطے میں ت
، مزدور کی موت کے بعد آتش زنی اور توڑ پھوڑ


سنگرولی، 14 مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرولی کے ماڈا تھانہ علاقے کے تحت بدھورا میں واقع اڈانی پاور پلانٹ میں ہفتہ کی صبح اس وقت بڑا ہنگامہ کھڑا ہو گیا، جب ایک مزدور کی موت کے بعد ساتھی مزدور مشتعل ہوگئے۔ مشتعل مزدوروں نے پلانٹ کے احاطے میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور کچھ گاڑیوں کو پلٹ دیا۔ آتش زنی اتنی شدید تھی کہ دور سے ہی کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پلانٹ میں کام کرنے والا جھارکھنڈ کے ضلع گڑھوا کا رہائشی مزدور لّلن سنگھ طویل عرصے سے اسی پلانٹ میں کام کر رہا تھا۔ جمعہ کی دیر رات اس کی موت ہو گئی۔ یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ افواہ پھیلی کہ مزدور لّلن کی اونچائی سے گرنے کی وجہ سے موت ہوئی ہے اور انتظامیہ نے کچھ وقت تک لاش چھپانے کی کوشش کی، جبکہ کمپنی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مزدور کی موت دیر رات ہارٹ اٹیک سے ہوئی۔

ہفتہ کی صبح مزدور کی موت کی خبر پھیلتے ہی پلانٹ میں کام کرنے والے مزدوروں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ غصے میں بھرے مزدوروں نے پلانٹ کے احاطے میں کھڑی کمپنی کے افسران کی آدھا درجن سے زائد گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی، کئی گاڑیاں پلٹ دیں اور انہیں آگ لگا دی۔ بدھورا پولیس چوکی کے انچارج کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہنگامے کے دوران کچھ مزدوروں نے کمپنی کے ایک ملازم کے ساتھ مار پیٹ بھی کی۔ حالات خراب ہوتے دیکھ کر کئی ملازمین پلانٹ کے اندر محفوظ جگہوں پر چھپ گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر بھاری پولیس نفری اور انتظامی افسران پہنچ گئے۔ ایس ڈی ایم، تحصیلدار، ایڈیشنل ایس پی سمیت 100 سے زائد پولیس اہلکار پلانٹ کے احاطے میں تعینات کر دیے گئے۔ فی الحال صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم پلانٹ کے اندر اب بھی تناو برقرار ہے۔

ہنگامے کے بعد کئی مزدور کام چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹتے دکھائی دیے۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ پلانٹ میں حفاظتی قوانین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ فی الحال پولیس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور مزدور کی موت کی وجوہات کے حوالے سے صورتحال واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کمپنی کے سیکورٹی انچارج راکیش کمار نے بتایا کہ توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی وجہ سے کمپنی کو 40 سے 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ وہیں، افسران کا کہنا ہے کہ مزدور کی موت کی وجوہات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجوہات اور ذمہ داری کے حوالے سے اگلی کارروائی کی جائے گی۔

سنگرولی کلکٹر گورو بینال کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹ کے اندر مزدور واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ اور ساتھی مزدور کی موت کی وجہ واضح کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس پر انتظامیہ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ پورے معاملے کی شفاف طریقے سے جانچ ہوگی۔ جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اگر انتظامیہ کی طرف سے کوئی لاپرواہی ہوئی ہے تو اس کی بھی جانچ ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی تنازعات اور حادثات ہوچکے ہیں۔ فروری 2025 میں ٹرک حادثے کے بعد مشتعل گاوں والوں نے پلانٹ سے وابستہ 6 بسوں اور 3-2 ٹرکوں کو آگ لگا دی تھی۔ اکتوبر 2024 میں ایش ڈیم (راکھ کے ڈیم) پر معاوضے کو لے کر گارڈز اورگاوں والوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ستمبر 2022 میں زمین کے معاوضے اور ماحولیاتی مسائل کو لے کر مقامی لوگوں نے پلانٹ کے خلاف چکا جام کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande