

بھوپال، 14 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں رسوئی گیس (ایل پی جی) کا بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں سے کمرشل گیس سلنڈر کی سپلائی متاثر ہونے سے ریاست بھر کے تقریباً 50 ہزار ہوٹل اور ریستوران بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
دارالحکومت بھوپال سے لے کر چھندواڑہ، اندور اور گوالیار تک گیس کے لیے مارا ماری مچی ہے۔ کہیں گیس گوداموں پر لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، تو کہیں پولیس کی نگرانی میں سلنڈر بانٹے جا رہے ہیں۔ کئی جگہوں پر ہوٹل اور فوڈ آوٹ لیٹس لکڑی، کوئلے یا ڈیزل بھٹیوں کا سہارا لے کر کھانا بنا رہے ہیں۔ گیس سلنڈر لینے کے لیے مختلف مقامات پر لمبی لمبی قطاروں کے ساتھ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حالانکہ ریاست کے شہروں اور دیگر اضلاع میں بند ہونے کے دہانے پر پہنچنے والے ہوٹل اور ریستورانوں کی تعداد کی بات کریں تو یہ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
دارالحکومت بھوپال کے گاندھی میڈیکل کالج میں بھی گیس بحران کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ کالج کے احاطے کے 16 ہاسٹل میس، جے ڈی اے کینٹین اور مریضوں کے سینٹرلائزڈ کچن میں گیس کا اسٹاک صرف دو دن کا بچا ہے۔ کمرشل سلنڈر کی بکنگ پر 25 دن کی ویٹنگ مل رہی ہے۔ ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر جلد سپلائی بحال نہ ہوئی تو انہیں خالی پیٹ ڈیوٹی کرنی پڑ سکتی ہے، جس سے طبی خدمات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ادھر شہر کے ٹی ٹی نگر دسہرہ میدان میں واقع گیس ایجنسی پر صبح سے ہی سینکڑوں لوگ خالی سلنڈر لے کر قطار میں کھڑے نظر آئے۔ ہفتہ کو صبح چھ بجے سے ہی صارفین کا بھاری ہجوم امڈ پڑا۔ صبح 11.30 بجے تک 200 سے زائد لوگ خالی سلنڈر لے کر اپنی باری کا انتظار کرتے دکھائی دیے۔ دوپہر 12 بجے ایک ٹرک سلنڈر آیا۔ اس دوران پہلے پانے کی مشقت شروع ہو گئی۔ اس سے صارفین اور ایجنسی والوں میں نوک جھونک بھی ہوئی۔ گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی کئی لوگوں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ہے۔
رائسین میں گیس سلنڈر نہیں ملنے سے لوگوں کا غصہ پھٹ پڑا۔ ساگر روڈ پر واقع گیس ایجنسی پر صبح سے قطار میں لگے صارفین کو جب گھنٹوں انتظار کے بعد بھی سلنڈر نہیں ملا تو انہوں نے سڑک پر چکا جام کر دیا۔ بڑی تعداد میں خواتین مظاہرے میں شامل ہوئیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ گھر میں نہ صبح کی چائے بنی اور نہ بچوں کے لیے کھانا۔ اطلاع ملنے پر ایس ڈی ایم منیش شرما موقع پر پہنچے اور ایجنسی مالک کو پھٹکار لگاتے ہوئے شٹر کھلوا کر تقسیم شروع کرائی۔
چھندواڑہ میں گیس کے گوداموں پر صارفین کا بھاری ہجوم امڈ رہا ہے۔ تنازعہ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو پولیس کی موجودگی میں سلنڈر کی تقسیم کرانی پڑ رہی ہے۔ گیس کی کمی کا اثر شہر کے انڈین کافی ہاوس میں بھی نظر آ رہا ہے، جہاں اب روایتی چولہوں پر ناشتہ تیار کیا جا رہا ہے۔
گوالیار میں ایل پی جی بحران نے کیٹرنگ کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کمرشل سلنڈر نہیں ملنے کی وجہ سے شادیوں اور تقریبات میں ڈیزل بھٹیوں، لکڑی اور کوئلے کے چولہوں پر کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔ بازار میں انڈکشن چولہے اور کوئلے کی مانگ 15 سے 20 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ تاجروں کے مطابق قیمتیں فی الحال مستحکم ہیں۔
اندور کے مشہور صرافہ بازار اور دیگر فوڈ ہبز پر بھی گیس بحران کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ کئی دکاندار انڈکشن چولہوں اور الیکٹرک گرل پر بھجیے اور سینڈوچ بنا رہے ہیں۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی کمی کی وجہ سے ذائقہ اور کام دونوں متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ گاہکوں کی تعداد بھی گھٹ گئی ہے۔
جبل پور میں ہوم ڈلیوری ٹھپ ہونے کی وجہ سے گیس ایجنسیوں پر لوگوں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ خواتین اور مرد گھنٹوں انتظار کر کے سلنڈر لینے پر مجبور ہیں۔ وہیں دموہ ریلوے اسٹیشن کے پاس واقع ایک بھونالے (ڈھابے) کو گیس نہیں ملنے کی وجہ سے بند کرنا پڑا ہے۔
دوسری طرف انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ریاست میں گیس کا اسٹاک کافی ہے اور ٹرکوں کے دیر سے پہنچنے کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ حالانکہ زمینی سطح پر حالات ابھی بھی معمول پر نہیں آ سکے ہیں اور کئی شہروں میں صارفین کو لمبا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کمرشل گیس کی کمی سے ہوٹل، ریستوران، کیٹرنگ اور اسٹریٹ فوڈ کا کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اگر جلد سپلائی معمول پر نہ آئی تو ریاست کے ہزاروں چھوٹے بڑے کھانے پینے کے کاروباریوں کو دکانیں بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن