
سلچر، 14 مارچ (ہ س) ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو آسام کے سلچر میں تقریباً 23,550 کروڑ روپے کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ تقریب کے دوران، انہوں نے شیلانگ-سلچر ہائی اسپیڈ کوریڈور سمیت کئی اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، اور کہا کہ ان منصوبوں سے وادی براک کو شمال مشرقی ہندوستان کے لیے ایک بڑا لاجسٹک اور تجارتی مرکز بننے میں مدد ملے گی۔ تقریب کے دوران وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی نے برسوں تک شمال مشرق کو نظر انداز کیا اور آسام کے نوجوانوں کو تشدد اور دہشت گردی کی طرف دھکیلا ۔
وزیر اعظم نے تقریباً 22,860 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے 166 کلو میٹر طویل شیلانگ-سلچر ہائی اسپیڈ کوریڈور کے لیے سنگ بنیاد کی تقریب انجام دی۔ یہ شمال مشرقی ہندوستان کا پہلا ایکسیس کنٹرولڈ، گرین فیلڈ، چار لین ہائی اسپیڈ کوریڈور ہوگا۔ مکمل ہونے پر، میگھالیہ اور آسام کے درمیان رابطے میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے گوہاٹی اور سلچر کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 8.5 گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 5 گھنٹے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ایک ہائی وے نہیں ہے بلکہ شمال مشرق کے لوگوں کے دہائیوں سے جاری انتظار کا خاتمہ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ راہداری سلچر، میزورم، منی پور، اور تریپورہ جیسی ریاستوں کے رابطے کو مضبوط کرے گی۔ ان ریاستوں کے ذریعے بنگلہ دیش اور میانمار کے ساتھ تجارت کو بھی فروغ ملے گا، جس سے پورے شمال مشرقی خطے کی اقتصادی ترقی میں تیزی آئے گی۔ اس سے کسانوں، صنعتوں اور سیاحت کے شعبے کو بھی کافی فائدہ ہوگا۔
مودی نے سلچر میں این ایچ-306 پر کیپٹل پوائنٹ کے قریب ٹرنک روڈ سے رنگیرکھاری پوائنٹ تک تعمیر کیے جانے والے ایلیویٹڈ کوریڈور (فیز 1) کے لیے سنگ بنیاد کی تقریب بھی انجام دی ۔ یہ پروجیکٹ شہر کی مصروف سڑکوں پر ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرے گا اور پڑوسی ریاستوں جیسے میزورم، تریپورہ اور منی پور کے ساتھ رابطے کو بہتر بنائے گا۔ یہ منصوبہ وادی بارک کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس کے علاوہ، وزیر اعظم نے کریم گنج ضلع کے پتھارکاندی میں ایک نئے زرعی کالج کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ ادارہ آسام میں زرعی تعلیم اور تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرے گا اور وادی براک اور آس پاس کے علاقوں کے طلباء کو گھر کے قریب اعلیٰ معیار کی زرعی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زراعت پر مبنی اسٹارٹ اپس اور اختراعات کو بھی فروغ ملے گا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ وادی براک تاریخ، ثقافت اور کاروبار کا سنگم ہے اور یہ خطہ نہ صرف آسام بلکہ پورے شمال مشرق اور مغربی بنگال کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑک، ریل اور تعلیم کے منصوبے وادی بارک کو شمال مشرق کے لیے ایک بڑے لاجسٹک اور تجارتی مرکز میں تبدیل کر دیں گے۔اس مقصد کے حصول کی جانب یہ ایک بڑا قدم ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔
کانگریس پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کانگریس کی حکومتوں نے شمال مشرق کو دہلی اور یہاں تک کہ ان کے دلوں سے دور رکھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی نے خطہ کو ترقی سے محروم رکھا اور وادی بارک کی اقتصادی طاقت کو کمزور کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد کانگریس پارٹی نے ایسی حدود طے کرنے کی اجازت دی کہ وادی بارک سمندر سے کٹ گئی جس سے خطے کی تجارتی ترقی کو نقصان پہنچا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب بی جے پی کی ’ڈبل انجن‘ حکومت اس صورتحال کو بدلنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کانگریس لیڈروں کو 24000 کروڑ روپے لکھنے کے لیے قلم اور کاغذ دیا جائے تو وہ شاید اتنے صفر بھی نہیں لکھ پائیں گے۔ جہاں کانگریس کی سوچ ختم ہوتی ہے وہیں بی جے پی کا کام شروع ہوتا ہے۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی کا بنیادی منتر ان لوگوں کو ترجیح دینا ہے جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ کانگریس کی حکومتیں سرحدی علاقوں کو ملک کا آخری گاو¿ں مانتی ہیں، جب کہ بی جے پی حکومت انھیں ملک کا پہلا گاو¿ں مانتی ہے۔ اس فلسفے کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع کچھار میں وائبرنٹ ولیجز پروگرام کا اگلا مرحلہ شروع کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ کانگریس نے آسام کے نوجوانوں کو تشدد اور دہشت گردی کے شیطانی چکر میں پھنسا رکھا ہے اور ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آسام کے نوجوانوں کے پاس مواقع سے بھرا ہوا آسمان ہے، اور ریاست تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں جنگ جیسے حالات موجود ہیں، اور مرکزی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ملک کے شہریوں پر اس کا اثر کم سے کم ہو۔ ایسے وقت میں کانگریس کو ایک ذمہ دار سیاسی پارٹی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مودی نے کہا کہ کانگریس مسلسل انتخابات ہار رہی ہے اور مستقبل قریب میں اپنی شکست کے ”سینچری نشان“ تک پہنچنے والی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شکست سے مایوسی میں کانگریس ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سڑکوں، ریلوے اور تعلیم سے متعلق یہ تمام ترقیاتی کام وادی براک اور پورے شمال مشرق کی ترقی کو ایک نئی تحریک دیں گے اور یہ خطہ آنے والے وقت میں تجارت، صنعت اور روزگار کا ایک بڑا مرکز بن جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ