
بغداد،14مارچ(ہ س)۔بغداد میں حزب اللہ تنظیم کے عناصر کو نشانہ بنانے والے دو حملوں کے بعد عراقی دارالحکومت ایک زوردار دھماکے سے لرز اٹھا۔العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق بغداد میں امریکہ کے سفارت خانے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دھماکے نے الرصافہ کے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ایک عراقی سکیورٹی اہل کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آج ہفتے کے روز ایک ڈرون طیارہ سفارت خانے سے ٹکرایا، جس کے دوران وہاں سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اہل کار نے مزید بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں سفارتی مشن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو گیا ہے۔
’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق دیگر عراقی حکام نے ذکر کیا ہے کہ ایک میزائل سفارت خانے میں ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر لگا۔مزید برآں دیگر روئٹرز کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی سفارتی مرکز کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو مار گرانے کی طرف اشارہ کیا ہے۔سفارت خانے کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس، جو دنیا میں امریکہ کی بڑی سفارتی تنصیبات میں سے ایک ہے، اس سے قبل بھی ایران کی اتحادی ملیشیاو¿ں کی جانب سے داغے گئے کئی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
عراقی سکیورٹی حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ واقعہ آج علی الصبح بغداد میں ایران نواز حزب اللہ تنظیم کے دو ارکان کی ہلاکت کے بعد پیش آیا، جن میں سے ایک اہم شخصیت تھی۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد عراقی دارالحکومت کے اندر یہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی۔ ایک سکیورٹی اہل کار نے بتایا کہ وسطی بغداد میں رات گئے حزب اللہ تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے طور پر زیرِ استعمال ایک گھر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اہم شخصیت ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے العرصات کے علاقے سے دھواں اٹھتے دیکھا جہاں عراقی مسلح گروہوں کے دفاتر موجود ہیں۔اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد مشرقی بغداد میں ایک اور دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ایک سکیورٹی اہل کار نے وضاحت کی کہ مشرقی بغداد کے علاقے نہروان میں الحشد الشعبی کے ایک رکن کو لے جانے والی گاڑی کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔
ایک اور سکیورٹی اہل کار نے بھی اس جانی نقصان کی تصدیق کی، جبکہ الحشد کے ایک عہدیدار نے اشارہ کیا کہ مقتول حزب اللہ تنظیم کا رکن تھا۔دوسری جانب حزب اللہ تنظیم نے ابھی تک کوئی با ضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے، جبکہ کسی بھی ذریعے نے ان دونوں حملوں کے ذمے دار عناصر کا تعین نہیں کیا۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر شروع کی گئی جنگ کے بعد سے الحشد الشعبی کے اڈوں میں ایران نواز دھڑوں کے کئی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ الحشد الشعبی ان گروہوں کا اتحاد ہے جو 2014 میں داعش سے لڑنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ با ضابطہ طور پر عراقی عسکری ادارے کا حصہ بن کر مسلح افواج کے تابع ہو گیا۔الحشد الشعبی کی صفوں میں ایران نواز لڑاکا دھڑوں کے بریگیڈ بھی شامل ہیں۔ یہ دھڑے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور اس اتحاد کا حصہ بھی ہیں جسے عراق میں اسلامی مزاحمت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جنگ کے آغاز سے ہی روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں دشمن کے اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ عراق برسوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا میدان رہا ہے اور 2003 میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے والے امریکی حملے کے بعد سے آنے والی یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ان دونوں طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم جنگ کے آغاز سے ہی وہاں کے حکام نے خود کو ایک ایسے تنازع کے درمیان پایا ہے جس میں ان کا نہ تو کوئی کردار ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اثر و رسوخ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan