ناسک ڈویژن میں شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ بے نقاب ، 150 کروڑ روپے کے مبینہ مالی بدعنوانی کا انکشاف
ناسک ، 14 مارچ (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناسک ڈویژن میں جعلی “شالارتھ آئی ڈی” اور فرضی ذاتی منظوری کے ذریعے تقریباً 150 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں تین سابق تعلیمی نائب ڈائریکٹروں، اکا
CRIME MAHA Shalarth ID Scam


ناسک ، 14 مارچ (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناسک ڈویژن میں جعلی “شالارتھ آئی ڈی” اور فرضی ذاتی منظوری کے ذریعے تقریباً 150 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں تین سابق تعلیمی نائب ڈائریکٹروں، اکاؤنٹ افسران، ہیڈ ماسٹروں، ادارہ منتظمین اور متعدد اساتذہ و ملازمین کے خلاف منظم جرائم کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق یہ گھوٹالہ مارچ 2019 سے جون 2025 کے دوران پیش آیا جب ناسک کے ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کے دفتر میں جعلی شالارتھ آئی ڈی اور فرضی ذاتی منظوری جاری کر کے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔اس معاملے میں ناسک ڈویژن کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن نتین بچاؤ، نتین اپاسنی اور ڈاکٹر بھاؤ صاحب چوہان کو اہم ملزمان قرار دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ اکاؤنٹ افسر منیش قدم اور ادئے پنچبھائی کے علاوہ متعلقہ اضلاع کے تنخواہ اور پراویڈنٹ فنڈ شعبے کے سپرنٹنڈنٹس بھی اس سازش میں ملوث پائے گئے ہیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 841 اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کو نااہل ہونے کے باوجود جعلی ذاتی منظوری اور شالارتھ آئی ڈی جاری کی گئیں۔ ان افراد کے لیے ماضی کی تاریخوں کے ساتھ جعلی احکامات پر دستخط کیے گئے۔حکام کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر کے یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ کا استعمال کرتے ہوئے کمپیوٹر نظام میں غیر قانونی طور پر “شالارتھ ڈرافٹ” درج کیے گئے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ بیشتر معاملات سے متعلق اصل فائلیں دفتر سے غائب پائی گئی ہیں۔الزام ہے کہ ہیڈ ماسٹروں، ادارہ منتظمین اور تنخواہ شعبے کے اہلکاروں نے باہمی ملی بھگت سے بغیر کسی تصدیق کے ان فرضی ملازمین کی تنخواہوں کے بل منظور کیے اور سرکاری رقم حاصل کی۔حکومت نے نجی اسکولوں میں نااہل ملازمین کی شمولیت کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی تھی۔ اس ٹیم نے 1,530 مشتبہ آئی ڈیز کی جانچ کی جس میں سے 892 آئی ڈیز مکمل طور پر جعلی پائی گئیں۔ان میں سے 51 افراد کے خلاف پہلے ہی مقدمات درج کیے جا چکے تھے جبکہ اب باقی 841 افراد کے خلاف بھی باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande