
تہران،13مارچ(ہ س)۔
ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کے 14 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے ایران کو ایسی مکمل تباہی سے دوچار کیا ہے جس کی مثال کسی دوسرے ملک نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایران پر اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ کیا ہے جتنا دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی بھی ملک پر ہوا ہے۔
البتہ آج جمعے کو فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس کے باوجود تہران کے پاس اب بھی کچھ باقیات موجود ہیں۔انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ امریکہ نے ایران کے زیادہ تر میزائل اور ڈرونز تباہ کر دیے ہیں۔
امریکی صدر نے مال بردار جہازوں پر زور دیا کہ وہ تھوڑی ہمت دکھائیں اور آبنائے ہرمز سے گزریں۔انہوں نے مزید کہا خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں.. ان کے پاس کوئی بحری بیڑہ نہیں ہے.. ہم نے ان کے تمام جہاز ڈبو دیے ہیں۔ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی حکام کے پاس اب کوئی بحری قوت باقی نہیں رہی، انہوں نے کہا ہم نے ان کے تمام بحری جہاز غرق کر دیے ہیں۔
مزید برآں امریکی صدر نے اشارہ کیا کہ ایران مشرق وسطیٰ پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اس کا ارادہ اسے مکمل طور پر کنٹرول کرنے کا تھا۔جہاں تک ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا تعلق ہے، ٹرمپ نے کہا میرا خیال ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ابھی تک زندہ ہیں۔ تاہم انہوں نے ان کے زخمی ہونے کا امکان ظاہر کیا۔جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ نئے سپریم لیڈر کے لیے ان کا کیا پیغام ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا ٹھیک ہے.. وہ بہت باتیں کرتے رہے ہیں، اس لیے اب انہیں خود کو ثابت کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے نئے سپریم لیڈر کے اس پہلے پیغام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے باور کرایا کہ ان کا ملک پیچھے نہیں ہٹے گا، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا بدلہ لے گا۔مجتبیٰ خامنہ ای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اہم آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا، جس میں جنگ کی وجہ سے جہاز رانی کی نقل و حرکت معطل ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب خامنہ ای کے بیٹے کے پیغام کے بعد ایرانی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند رکھے گی اور جارحیت کا مقابلہ جاری رکھے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan