ٹرمپ نے کہا- ایران کو 2026 کے ورلڈ کپ میں نہیں آناچاہیے، کھلاڑیوں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا
واشنگٹن، 13 مارچ (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران کی فٹ بال ٹیم کو آئندہ فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں شرکت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے کھلاڑیوں کی ”زندگی اور حفاظت“ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ تبصرہ اس بیان کے دو دن بعد
Sports-Football-Trump-Iran-FIFAWC


واشنگٹن، 13 مارچ (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران کی فٹ بال ٹیم کو آئندہ فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں شرکت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے کھلاڑیوں کی ”زندگی اور حفاظت“ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا یہ تبصرہ اس بیان کے دو دن بعد سامنے آیا ہے ، جب انہوں نے ورلڈ فٹ بال فیڈریشن کے صدر گیانی انفینٹینو سے کہا تھاکہ ایران کی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کا ورلڈ کپ میں استقبال ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کو دیکھتے ہوئے ان کا وہاں آنا مناسب نہیں ہوگا۔

دراصل28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے اس سال مردوں کے فٹ بال ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کی میزبانی کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ مشترکہ طور پر کریں گے۔

ورلڈ فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ گیانی انفینٹینو نے اس ہفتے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاو¿س میں ہونے والی ملاقات میں ایران کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایرانی ٹیم کا امریکہ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کا خیرمقدم ہے۔

انفینٹینو نے گزشتہ دسمبر میں ورلڈ فٹ بال فیڈریشن کے امن انعام کا آغاز کیا اور ٹرمپ پہلے وصول کنندہ تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر فٹبال کی گورننگ باڈی کا پہلا عوامی تبصرہ ہے۔

اس ہفتے، ٹرمپ نے آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی ایرانی خواتین فٹ بال کھلاڑیوں کے مسئلے پر بھی ردعمل دیا اور انہیں پناہ دینے کی اپیل کی۔ بتایا گیا ہے کہ ایشین کپ کے میچ سے قبل قومی ترانہ نہیں گانے کی وجہ سے کھلاڑیوں کو وطن واپسی پر کارروائی کا خدشہ تھا ۔

بعد ازاں آسٹریلیائی حکومت نے ان پانچ کھلاڑیوں کو سیاسی پناہ دینے پر رضامندی ظاہر کی جنہوں نے وہاں رکنے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande