
تل ابیب،13مارچ(ہ س)۔اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں معرکہ آرائی مختصر نہیں ہوگی۔ انہوں نے شمالی کمان کے ہیڈ کوارٹر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنا اختیار نافذ کرے گا کیونکہ وہاں کی حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا اشارہ لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کا اسلحہ واپس لینے کی قرارداد پر عمل درآمد میں سستی کی طرف تھا۔
ایال زامیر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے اور ایران اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف بیک وقت کارروائی کر رہا ہے۔ اس ایرانی حکومت کے خلاف بڑی طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر کوئی بھی حملہ اس کے تمام آلہ کاروں کو کمزور کر دیتا ہے۔ ان کے بقول حزب اللہ کے خلاف جنگ ایک اور اہم محاذ پر جنگ ہے۔ یہ کوئی ثانوی محاذ نہیں ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صہیونی وزیر دفاع یسرائ?ل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں آپریشنز کو وسعت دینے اور شمالی بستیوں میں امن و امان کی واپسی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یسرائیل کاٹز نے کہا کہ میں نے لبنان کے سربراہ جوزف عون کو خبردار کیا تھا کہ اگر لبنانی حکومت اپنے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے اور حزب اللہ کو شمالی بستیوں کو دھمکانے اور اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کرنے سے روکنے میں ناکام رہی تو ہم خود یہ کام کریں گے اور علاقوں پر قبضہ کر لیں گے۔
ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے لبنانی دارالحکومت بیروت پر حملوں کی ایک لہر شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ جنوبی لبنان کے علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلائ کے انتباہات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے انتباہات کا دائرہ دریائے لیطانی کے شمال میں واقع علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جمعرات کو جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے حملوں سے قبل فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ صہیونی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان کے باشندوں کے لیے فوری انتباہ میں دریائے زہرانی کے جنوب میں رہنے والے تمام افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر خالی کر دیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جو بھی حزب اللہ کے ارکان، تنصیبات یا جنگی وسائل کے قریب موجود ہے وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ بیان میں رہائشیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر دریائے زہرانی کے شمال کی طرف چلے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی حزب اللہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے وسطی اسرائیل میں قیصریہ شہر جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی رہائش گاہ واقع ہے کے نواح میں واقع فضائی دفاعی نظام کو مخصوص میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ حزب اللہ، جس نے بدھ کو اسرائیل کے خلاف ایک نئے آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا تھا، نے بتایا کہ اس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں مخصوص میزائلوں کی کھیپ سے قیصریہ شہر کے گردونواح میں دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے مشرق وسطیٰ میں تنازعہ لبنان تک اس وقت پھیل گیا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے۔ یہ واقعہ 28 فروری کو ایران پر امریکی- اسرائیلی حملے کے آغاز میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ساتھ پیش آیا تھا۔ تب سے اسرائیل لبنانی علاقوں پر شدید حملے کر رہا ہے اور اس کی افواج ملک کے جنوب میں داخل ہو رہی ہیں۔ واضح رہے جنگ چھڑنے سے پہلے بھی اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے تھا۔ اسرائیلی فوج کے یہ حملے 2024 میں ایک سال کی تباہ کن جنگ کے بعد حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جاری تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan