
تہران،13مارچ(ہ س)۔ایران کے پاسداران انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملے میں امریکی بحری بیڑے کو ’غیر فعال‘ کر دیا ہے اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو امریکی بحری بیڑے کو ایران کی سمندری حدود سے 340 کلو میٹر د±ور بحیرہ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔بیان میں بحری بیڑے کی اہم تنصیبات بشمول ڈرون مخالف دفاعی نظام، ڈرون کے لیے ذخیرہ اور دیکھ بھال کے علاقے، سپورٹ آلات، اور فیول ٹینک کو درست میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن بدستور آپریشن ایپک فیوری میں حصہ لے رہا ہے اور سمندر سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے دونوں حکام نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ کے ایک جہاز نے مارک 45 فائیو انچ (Mark 45 5-inch) نیول گن کے ذریعے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم کئی مرتبہ فائر کیے گئے گولے نشانے پر نہ لگ سکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے بعد ہیل فائر میزائلوں سے لیس ایک ہیلی کاپٹر روانہ کیا گیا، جس نے ایرانی جہاز کو دو میزائل مارے۔ ایرانی جہاز اور اس کے عملے کی صورت حال ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے، جبکہ یہ واقعہ رواں ہفتے کے اوائل میں پیش آیا تھا۔
امریکی تباہ کن بحری جہاز ’سبروانس‘اور ’مائیکل مرفی‘ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے ہمراہ ہیں جو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی مدد کے لیے بحیرہ عرب میں موجود ہے۔ گذشتہ ہفتے تک میزائلوں سے لیس چھ دیگر تباہ کن جہاز بھی بحیرہ عرب میں کام کر رہے تھے۔طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں تعینات دو امریکی طیارہ بردار جہازوں میں سے ایک ہے۔ یہ جنگی گروپ جنوری کے آخر میں اس علاقے میں پہنچا تھا جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عظیم بیڑے (Huge Fleet) کا نام دیا تھا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق، فروری کے شروع میں ایک ایرانی شاہد-139 ڈرون ابراہم لنکن کے قریب جارحانہ انداز میں آیا تھا اور اس کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت کی تھی، جسے بعد میں ایک امریکی لڑاکا طیارے نے مار گرایا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan