اندور کا بزرگ جوڑا ڈیجیٹل اریسٹ کا ہوا شکار، جعل سازوں نے 1.15 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی
اندور کا بزرگ جوڑا ڈیجیٹل اریسٹ کا ہوا شکار، جعل سازوں نے 1.15 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی اندور، یکم مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر کا ایک بزرگ جوڑا ڈیجیٹل اریسٹ کا شکار ہو گیا۔ سائبر ٹھگوں نے گرفتاری کا خوف دکھا کر ان سے 1 کروڑ 15 لاکھ روپ
ڈیجیٹل اریسٹ علامتی


اندور کا بزرگ جوڑا ڈیجیٹل اریسٹ کا ہوا شکار، جعل سازوں نے 1.15 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی

اندور، یکم مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے اندور شہر کا ایک بزرگ جوڑا ڈیجیٹل اریسٹ کا شکار ہو گیا۔ سائبر ٹھگوں نے گرفتاری کا خوف دکھا کر ان سے 1 کروڑ 15 لاکھ روپے ٹھگ لیے۔ پولیس نے ہفتہ کو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ہیرا نگر تھانہ پولیس کے مطابق، شکایت کنندہ 80 سالہ وجے سکسینہ اور ان کی اہلیہ سمن سکسینہ (77 سال)، ساکن بجرنگ نگر اندور کے موبائل پر 15 نومبر 2025 کو ویڈیو کال آئی۔ کال کرنے والے نے خود کو پونے اے ٹی ایس ہیڈکوارٹر کا افسر 'چندربھان سنگھ بتایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ سمن کے نام سے جموں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کھاتے میں 70 لاکھ روپے کا مشکوک لین دین ہوا ہے اور معاملہ دہشت گردی سے جڑا ہے۔

جعل سازوں نے مسلسل ویڈیو کال کر کے خاتون اور ان کے شوہر کو مبینہ پوچھ گچھ کے نام پر گھنٹوں بیٹھے رہنے پر مجبور کیا۔ انہیں دھمکی دی گئی کہ تعاون نہیں کیا تو گرفتاری ہوگی، جائیداد ضبط ہوگی اور بچوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ خوف کے ماحول میں ملزمان نے واٹس ایپ پر آدھار کارڈ، پین کارڈ اور بینک سے متعلق دستاویزات منگوا لیے۔ اس کے بعد دو الگ الگ بینک کھاتوں کے نمبر دے کر کہا کہ تفتیش پوری ہونے تک رقم ’’محفوظ لین دین‘‘ کے طور پر ٹرانسفر کرنی ہوگی۔

اس کے بعد 20 نومبر 2025 کو خاتون نے اپنے کھاتے سے 49.70 لاکھ روپے اور ان کے شوہر نے 65.30 لاکھ روپے این ای ایف ٹی کے ذریعے بتائے گئے کھاتوں میں ٹرانسفر کر دیے۔ ملزمان نے یہ بھی ہدایت دی کہ بینک میں پوچھ گچھ ہونے پر بتانا کہ رقم بیٹیوں کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔ رقم ٹرانسفر کے بعد مسلسل فون کالز اور ذہنی دباو کے باعث شوہر کی طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ واقعے کے کچھ دن بعد خاتون نے پوری معلومات اپنے داماد کو دی۔ اس کے بعد معاملے کی شکایت سائبر کرائم برانچ میں کی گئی۔ تفتیش کے بعد ہیرا نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس نے تعزیرات ہند (بی این ایس) 2023 کی دفعات 318(4)، 319(2) اور 308 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

متاثرہ خاتون سمن سکسینہ نے بتایا کہ انہیں چندربھان نامی بدمعاش نے پہلے 8402823868 نمبر سے کال کی۔ اس کے بعد پردیپ لال نامی بدمعاش نے 8511309468 نمبر سے ویڈیو کال کی۔ 15 نومبر کو کی گئی کال میں چندربھان نے سمن کو فون پر بتایا کہ پلوامہ، پہلگام میں چھوٹے بچوں کے ریپ اور مرڈر ہوئے ہیں۔ اس میں دہشت گرد افضل خان پکڑا گیا ہے، اس نے آپ کا نام لیا ہے۔ جموں کے ایچ ڈی ایف سی بینک میں آپ کا اکاونٹ ہے اور کمیشن کے طور پر آپ کو 70 لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ اس کے باعث آپ پر منی لانڈرنگ کا کیس بنے گا۔ آپ دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں اور آپ کو گرفتار کیا جائے گا۔

سمن نے بتایا کہ ہم کبھی جموں گئے ہی نہیں اور وہاں ہمارا کسی بھی بینک میں اکاونٹ نہیں ہے۔ یہ سننے کے بعد ملزم نے فون کاٹ دیا اور 18 نومبر کو پھر سے کال کی۔ اس نے کہا کہ آپ کا کیس میں پردیپ لال کو سونپ رہا ہوں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر سے 19 نومبر کو پردیپ لال نامی بدمعاش نے فون کیا۔ اس نے مجھے اور میرے شوہر کو سامنے بٹھایا اور واٹس ایپ پر ویڈیو کال کی۔ ہمیں دھمکایا کہ آپ کے بچوں کا قتل کر دیا جائے گا اور آپ کو بھی گرفتار کر کے پونے لایا جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے بینک اور نجی معلومات مانگیں۔ ڈر کر ہم نے بینک پاس بک، آدھار کارڈ، پین کارڈ کی کاپی انہیں شیئر کر دی۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں بینک جا کر ایف ڈی سے پیسے نکالنے کو کہا۔ ہم نے پیسے نکال کر بدمعاشوں کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دیے۔ اس حادثے کے بعد شوہر بیمار ہو گئے۔ انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آئے تو ہم نے داماد منیش گوڑ کو پورا واقعہ بتایا۔

ڈی سی پی کرائم برانچ راجیش دنڈوتیا نے بتایا کہ ایک سینئر سٹیزن کو ڈیجیٹل اریسٹ کر کے ٹھگی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ابھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande