
کانپور، 27 فروری (ہ س)۔ اتر پردیش کے کانپور کے چکیری تھانہ علاقے میں 16 فروری کو 8 لاکھ روپے کی لوٹ کرنے والے دو شاطر بدمعاشوں کو پولیس نے دیر شب پیر میں گولی مارکر گرفتار کر لیا۔ زخمیوں کوعلاج کے لئے رما دیوی کے کاشی رام ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد جمعہ کو انہیں عدالت میں پیش کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ایسٹ) ستیہ جیت گپتا نے بتایا کہ جمعرات کی رات دیر گئے پولیس چکیری کے اہیروار علاقے میں گاڑیوں کی چیکنگ کر رہی تھی۔ اس دوران بائک پر سوار دو نوجوان چیکنگ کو دیکھ کر بھاگنے لگے۔ پولیس نے انہیں گھیرے میں لے کر روکنے کی کوشش کی تو بدمعاشوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی میں پولیس نے دونوں کو ٹانگ میں گولی مار کر گرفتار کر لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزمان کی شناخت مجاہد اور یاسین کے طور پر ہوئی جو بیکن گنج کے رہنے والے ہیں ۔ دونوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
قابل ذکر ہے کہ 16 فروری کو یشودا نگر رہائشی محمد واحد اپنے گاو¿ں کی زمین بیچ کر پیسوں سے بھرا بیگ لے کر گھر لوٹ رہا تھا۔ اسی دوران شیام نگر علاقہ میں بدمعاشوں نے اس سے رقم لوٹ لی۔ جب اس نے مزاحمت کی تو انہوں نے اسے بندوق کے بٹ سے مارا جس سے وہ زخمی ہو گیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ لوٹ اور مارپیٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ تاہم متاثرہ نے اس وقت ایف آئی آر درج نہیں کرائی تھی۔
دراصل، پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں، متاثرہ نے کہا تھا کہ اس کا موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوا تھا۔ تاہم بدھ کی دیر رات متاثرہ نے ڈکیتی کا مقدمہ درج کرایا۔ متاثرہ کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سی سی ٹی وی اور نگرانی کی مدد سے دو شاطر بدمعاشوں کو پکڑ لیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد