رنجی ٹرافی فائنل: جموں و کشمیر 584 پر آل آؤٹ، کرناٹک کو ایک بڑا چیلنج درپیش
ہبلی، 26 فروری (ہ س) ۔ ہبلی کے کے ایس سی اے اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے رنجی ٹرافی فائنل میں جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم نے تیسرے دن پہلی اننگز میں 584 رنز بنا کر مضبوط برتری حاصل کر لی ہے۔ کرناٹک کو جیت کے لیے ایک مشکل ہدف کا سامنا ہے۔ جموں و کشمیر، جس ن
رنجی ٹرافی فائنل: جموں و کشمیر 584 پر آل آو¿ٹ، کرناٹک کو ایک بڑا چیلنج درپیش


ہبلی، 26 فروری (ہ س) ۔

ہبلی کے کے ایس سی اے اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے رنجی ٹرافی فائنل میں جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم نے تیسرے دن پہلی اننگز میں 584 رنز بنا کر مضبوط برتری حاصل کر لی ہے۔ کرناٹک کو جیت کے لیے ایک مشکل ہدف کا سامنا ہے۔

جموں و کشمیر، جس نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اوپنر یاور حسن نے 88 رنز کی مفید اننگز کھیلی۔ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے شبھم پنڈیر نے شاندار 121 رنز کی اننگز کھیلی۔کپتان پارس ڈوگرا نے 70 رنز بنائے، عبدالصمد نے 61 رنز بنائے۔ وکٹ کیپر بلے باز کنہیا وادھاون نے 70 رنز بنائے، ساحل لوٹرا نے 78 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ اس طرح جموں و کشمیر کی ٹیم 584 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔

کرناٹک کے لیے تیز گیند باز پرسدھ کرشنا نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے 34.1 اوور میں 98 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم، دیگر باولرز مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے مخالف ٹیم کو ایک اعلیٰ سکور کرنے کا موقع ملا۔ جموں و کشمیر کی اننگز کے اختتام کے بعد کرناٹک کرکٹ ٹیم نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا۔ میچ کے تیسرے دن کا کھیل جاری ہے۔ کرناٹک کے لیے پہلی اننگز کی برتری حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ قواعد کے مطابق فائنل میچ ڈرا ہونے کی صورت میں پہلی اننگز کی برتری حاصل کرنے والی ٹیم کو چیمپئن قرار دیا جائے گا۔ ایسی صورت حال میں کرناٹک کو ٹائٹل کی دوڑ میں رہنے کے لیے 585 رنز تک پہنچنا یا اس سے آگے نکلنا ہوگا۔ اگر کرناٹک پہلی اننگز میں پیچھے ہو جاتا ہے تو جموں و کشمیر ڈرا کے ذریعے اپنی پہلی اننگز کی برتری کی بنیاد پر ٹائٹل جیت سکتا ہے۔ میچ کے اگلے دو دن انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande