کاکتیہ یونیورسٹی میں طلبا کا ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ
حیدرآباد،24 فروری (ہ س)۔اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یونیورسٹی آنے والے طلبا کے درمیان محض چکن کے سالن پرہونے والا جھگڑاایک بڑے پرتشدد واقعہ میں تبدیل ہوگیا۔ورنگل کی مشہورکاکتیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میس میں پیش آنے والے اس واقعہ نے تمام کوحیران کردیا ج
کاکتیہ یونیورسٹی میں طلبا کا ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ


حیدرآباد،24 فروری (ہ س)۔اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یونیورسٹی آنے والے طلبا کے درمیان محض چکن کے سالن پرہونے والا جھگڑاایک بڑے پرتشدد واقعہ میں تبدیل ہوگیا۔ورنگل کی مشہورکاکتیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میس میں پیش آنے والے اس واقعہ نے تمام کوحیران کردیا جہاں طلبا کے دوگروپوں نے ایک دوسرے پرلاٹھیوں اورپتھروں سے بے رحمانہ طورپرحملہ کیا جس کے نتیجہ میں کئی طلبا کے سر پھٹ گئے اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ یونیورسٹی کے کامن میس میں پیش آیا جہاں ایم بی اے، اکنامکس اور ایم ایس سی کمپیوٹرسائنس کے طلبا کھانا کھارہے تھے۔جھگڑے کی ابتدا اس بات پر ہوئی کہ بعض طلبا کو چکن زیادہ دیاجارہا ہے اوردوسروں کو کم۔ یہ معمولی بحث دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑھ گئی کہ طلبا دوگروپوں میں تقسیم ہو گئے اورمیدانِ جنگ کامنظرپیش کرنے لگے۔ اس سے قبل بھی ابلے ہوئے انڈوں کے معاملہ پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی کے نیوپی جی ہاسٹل میں رات دیرگئے تک کشیدگی برقراررہی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا۔ پولیس نے اس ہنگامہ آرائی میں ملوث پانچ طلبا کے خلاف کاکتیہ یونیورسٹی پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی مختلف دفعات بشمول 118(1) اور351(2) کے تحت مقدمات درج کرلیے ہیں۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande