حلیم اب ملک گیر سطح پر برانڈ، ملک کے بڑے شہروں میں فروخت میں اضافہ،
حیدرآباد،24 فروری (ہ س)۔ حیدرآباد میں مقدس ماہ رمضان کے دوران حلیم کی فروخت اس سال ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے فوڈبزنس سے وابستہ حلقوں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلہ میں جاریہ سال حلیم کی فروخت میں تقریباً 30 سے50 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا ہے۔ان
حلیم اب ملک گیر سطح پر برانڈ، ملک کے بڑے شہروں میں فروخت میں اضافہ،


حیدرآباد،24 فروری (ہ س)۔ حیدرآباد میں مقدس ماہ رمضان کے دوران حلیم کی فروخت اس سال ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے فوڈبزنس سے وابستہ حلقوں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلہ میں جاریہ سال حلیم کی فروخت میں تقریباً 30 سے50 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا ہے۔اندازوں کے مطابق صرف حیدرآباد میں روزانہ 50 ہزارسے 70 ہزارکلوگرام تک حلیم فروخت ہورہی ہے جب کہ گزشتہ سال یہ مقدار35 ہزارسے45 ہزارکلوگرام کے درمیان تھی۔ چینئی میں بھی مانگ میں 40 سے60فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بنگلورو میں جمعہ اور ہفتہ کے دن دکانوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور آن لائن آرڈرس میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔دہلی این سی آر، خصوصاً پرانی دہلی کے علاقوں میں افطار کے اوقات میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔حیدرآبادی حلیم اب ملک گیر سطح پر ایک برانڈ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کئی سرکردہ برانڈس دیگر شہروں میں بھی حیدرآبادی حلیم کے نام سے نمایاں فروخت حاصل کر رہے ہیں۔ فوڈ ڈیلیوری ایپس کی خصوصی پیشکشوں نے بھی طلب میں مزید اضافہ کیا ہے۔ حلیم کی بڑھتی ہوئی مانگ کا براہ راست اثر اس کے ماہر باورچیوں کی آمدنی پر بھی پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کے بڑے آؤٹ لیٹس میں کام کرنے والے تجربہ کار ماسٹر حلیم شیف رمضان کے ایک ہی مہینے میں 2 لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے تک کما رہے ہیں جو کئی کارپوریٹ ملازمتوں کی ماہانہ تنخواہوں سے بھی زیادہ ہے۔چھوٹے آؤٹ لیٹس یا عارضی حلیم مراکز میں کام کرنے والے شیف اور معاون عملہ یومیہ 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک حاصل کر رہے ہیں۔ سرکردہ برانڈس اعلیٰ شیفس کو چھ ماہ قبل ہی بُک کر لیتے ہیں اور انہیں بونس اور مراعات بھی فراہم کرتے ہیں۔حلیم کی تیاری 12 سے 18 گھنٹے پر مشتمل سست رفتار پکانے کے عمل سے گزرتی ہے۔ اس میں مخصوص مصالحوں کا متوازن استعمال، گوشت کو اچھی طرح نرم کرنا اور مسلسل ہلاتے ہوئے درست گاڑھا پن حاصل کرنا شامل ہے۔ یہ تمام مراحل صرف تجربہ کار اور ماہر باورچی ہی بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ مانگ اور خصوصی مہارت کے امتزاج نے اس سیزن میں حلیم تیار کرنے والوں کے لئے آمدنی کے غیر معمولی مواقع پیدا کر دیئے ہیں۔ بعض کاریگر تو صرف رمضان کے ایک مہینے میں ہی عام سالانہ آمدنی کے برابر یا اس سے زائد رقم کما رہے ہیں۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande