جھونسی پولیس شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند سے پوچھ گچھ کرنے وارانسی پہنچی
عدالتی احکامات پر دائر پوکسو ایکٹ کیس میں تفتیش شروع وارانسی، 23 فروری (ہ س)۔ نابالغ بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں جیوترپیٹھادھیشور شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد، ج
جھونسی پولیس شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند سے پوچھ گچھ کرنے وارانسی پہنچی


عدالتی احکامات پر دائر پوکسو ایکٹ کیس میں تفتیش شروع

وارانسی، 23 فروری (ہ س)۔

نابالغ بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں جیوترپیٹھادھیشور شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد، جھونسی پولیس (پریاگ راج) سوموار کو وارانسی پہنچی تاکہ اس معاملے میں شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند، ان کے شاگرد مکندانند اور تین دیگر افراد سے پوچھ گچھ کریں۔ اس واقعہ نے شہر میں بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی ہے۔ جھونسی پولیس اسٹیشن کے انچارج مہیش مشرا کیدار گھاٹ کے سری ودیا مٹھ میں شنکراچاریہ اور دیگر ملزمین سے تفصیلی پوچھ گچھ کریں گے۔ ہفتہ کو ضلع پوکسو ایکٹ عدالت کے خصوصی جج ونود کمار چورسیا نے جھونسی پولیس کو کیس درج کرنے اور تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ، آزادانہ اور تیز رفتاری سے کی جائیں۔ یہ مقدمہ شکمبری پیٹھادھیشور آشوتوش برہمچاری کی طرف سے دائر درخواست پر شروع کیا گیا تھا۔ اس میں شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند اور ان کے شاگرد مکندانند پر ماگھ میلے کے دوران نابالغ لڑکوں کا جنسی استحصال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت میں متاثرین کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔ اس کے بعد عدالت نے پریاگ راج پولس کمشنر کو معاملے کی جانچ کرکے رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔ عدالت نے کہا کہ متاثرین کے بیانات، آزاد گواہوں کے بیانات، پولیس کمشنر کی جانب سے پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ اور جمع کردہ مواد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ الزامات سنگین ہیں۔ سٹیشن ہاو¿س آفیسر مہیش مشرا کے مطابق عدالت کے حکم پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس اس معاملے میں مزید کارروائی کے لیے تمام ضروری شواہد اور بیانات اکٹھا کر رہی ہے۔

دریں اثنا، جھونسی پولیس کی پوچھ گچھ سے پہلے، شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے میڈیا والوں سے بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں اور سچ سامنے آئے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گرفتاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے اتنے دن گزر چکے ہیں۔ ہم کہیں بھاگ نہیں رہے ہیں ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande