
توتیکورین، 23 فروری (ہ س) بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے پیر کو وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی میں مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے بندرگاہ کے احاطے میں ہیریٹیج میوزیم کا افتتاح کیا اور اسکول کی طالبات کے ساتھ میوزیم کا دورہ کیا۔
اس موقع پر کل 21 نئے منصوبے شروع کیے گئے جن میں وی او سی میری ٹائم ہیریٹیج میوزیم، مصنوعی ذہانت پر مبنی پورٹ ورچوئل ماڈل ایپلی کیشن، 120 ملین کا کورکائی ٹورازم پروجیکٹ، اور پورٹ ریل فریٹ یارڈ تک رسائی روڈ اپ گریڈ سمیت نو پروجیکٹس شامل ہیں۔ بندرگاہ کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پلان کے تحت مختلف تنظیموں کو فلاحی امداد بھی فراہم کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ تمل ناڈو میں قومی شاہراہ، ریلوے اور بندرگاہ کی ترقی کے لیے 3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے منصوبے لاگو کیے جا رہے ہیں۔ ساگرمالا اور امرت بھارت اسکیموں کے تحت بندرگاہوں کو ریلوے سے جوڑنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔
وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ تمل ناڈو میں فی الحال 12,600 کروڑ روپے کے 111 پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ مرکزی حکومت توتیکورن پورٹ کو ملک کی پہلی گرین پورٹ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بندرگاہ کو ہائیڈروجن توانائی کے مرکز کے طور پر بھی تیار کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ توتیکورن میں 30,000 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نیا شپ بلڈنگ یارڈ قائم کیا جائے گا۔ 15,000 کروڑ روپے کا بیرونی ہاربر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ بندرگاہ کی گہرائی کو 18 میٹر تک بڑھا دے گا، جس سے بڑے جہازوں کی نقل و حرکت میں سہولت ہوگی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق 2030 کے لیے سمندری تجارتی منصوبہ اور 2047 کے ترقیاتی اہداف کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، 2030 تک ہندوستانی بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت کو 10,000 ملین ٹن تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ 2070 تک ہندوستان کو کاربن سے پاک ملک بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایم ایل اے اور تمل ناڈو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر نینار ناگیندرن، وی او سی پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین سوشانت کمار پروہت، بندرگاہوں کے سکریٹری موہن کمار اور کئی سینئر سرکاری عہدیدار اس تقریب میں موجود تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی