سرحدی مسئلہ حل کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا : گورنر آچاریہ دیوورت
سرحدی مسئلہ حل کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا : گورنر آچاریہ دیوورتممبئی، 23 فروری (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گورنر آچاریہ دیوورت نے پیر کو ریاستی مقننہ کے دونوں ایوانوں کے ارکان سے مشترکہ خطاب میں کہا کہ حکومت مہاراشٹر۔کرناٹک سرحدی تنازعہ
Politics-Maha-Governor-Address


سرحدی مسئلہ حل کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا : گورنر آچاریہ دیوورتممبئی، 23 فروری (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گورنر آچاریہ دیوورت نے پیر کو ریاستی مقننہ کے دونوں ایوانوں کے ارکان سے مشترکہ خطاب میں کہا کہ حکومت مہاراشٹر۔کرناٹک سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو قانونی دائرے میں رہ کر سلجھانے کی تیاری کر چکی ہے۔انہوں نے اس تنازعہ کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کی لسانی بنیاد پر تنظیم نو کے بعد بیلگام اور اطراف کے مراٹھی بولنے والے علاقوں کو کرناٹک میں شامل کیا گیا تھا، جس پر مہاراشٹر مسلسل دعویٰ کرتا رہا ہے، جبکہ کرناٹک ان سرحدوں کو حتمی قرار دیتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ طویل عرصے سے سیاسی طور پر حساس بنا ہوا ہے۔گورنر نے اپنے خطاب میں ریاست کی معاشی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے والی ریاست بن چکی ہے اور ’’وکست مہاراشٹر‘‘ کے ہدف کے تحت 2047 تک پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ گڑچیرولی کو اسٹیل حب بنانے اور مشرقی ودربھ میں اسٹیل کوریڈور قائم کرنے کے منصوبوں کو انہوں نے ریاست کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سمردھی ایکسپریس ہائی وے کو وادھون بندرگاہ اور آگے مشرقی ودربھ تک بڑھانے سے رابطہ بہتر ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ ’’لکھپتی دیدی‘‘ اسکیم کے ذریعے دیہی خواتین کو باقاعدہ آمدنی اور مالی خودمختاری فراہم کی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande