
نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے لوگوں کے نام ایک کھلا خط جاری کیا، جس میں ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔خط میں انہوں نے ریاست کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے مہینے مغربی بنگال کے مستقبل کا تعین ہوگا اور یہ فیصلہ یہاں کے عوام کے سوچ -سمجھ کر لئے گئے فیصلے پر منحصر ہوگا۔
وزیر اعظم نے اپنے خط کا آغاز”جے ماں کالی“ سے کرتے ہوئے مغربی بنگال کے شہریوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا ہر نوجوان، بزرگ فرد اور خواتین ایک بہتر مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں اور ان کا دکھ انہیں بھی بے چین کرتا ہے ۔ اسی جذبے کے ساتھ ، انہوں نے مغربی بنگال کو ”ترقی یافتہ“ اور ”خوشحال“ بنانے کا عزم کرنے کی بات کہی۔
مرکزی حکومت کی مختلف عوامی فلاحی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ حالیہ برسوں میں غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے عدم تعاون اور مخالفت کے باوجود ،جن دھن یوجنا کے ذریعے مغربی بنگال میں پانچ کروڑ لوگوں کو بینکنگ سسٹم سے جوڑا گیا ہے۔ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت 85 لاکھ بیت الخلاءتعمیر کیے گئے ہیں۔ چھوٹے کاروباروں اور صنعت کاروں کو 2.82 لاکھ کروڑ روپے کے قرض فراہم کیے گئے ہیں۔ اجولا یوجنا کے ذریعے، ایک کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو رسوئی گیس فراہم کرکے ماو¿ں اور بہنوں کو دھوئیں سے نجات دلایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اٹل پنشن یوجنا کے تحت 56 لاکھ لوگوں نے اندراج کرایا ہے اور پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بڑی تعداد میں خاندانوں کو پکے مکان ملے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کسان سمان ندھی کے ذریعے 52 لاکھ کسانوں کو براہ راست مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے، جس سے ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔
خط میں مودی نے مغربی بنگال کی تاریخی اور ثقافتی شان کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے تحریک آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا اور ملکی معیشت کی تشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے۔ تاہم، حالیہ دہائیوں میں، ریاست کو ناقص حکمرانی اور خوشامد کی سیاست کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روزگار کی کمی کی وجہ سے نوجوان دوسری ریاستوں کی طرف ہجرت کرنا پڑ رہا ہے اور خواتین کی حفاظت کو لے کر خدشات ہیں۔
بنگال کی عظیم شخصیات کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی وویکانند اور رابندر ناتھ ٹیگور نے جس بنگال کا تصور کیا تھا، آج وہ تنگ سیاست اور تشدد کی گرفت میں نظر آتا ہے۔ غیر قانونی امیگریشن اور پرتشدد واقعات سے ریاست کی مقدس سرزمین متاثر ہو رہی ہے جس سے ملک بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی اب ضروری ہے اور ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح مغربی بنگال کو بھی ترقی، روزگار، بہتر صحت کی دیکھ بھال اور خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت صحت کا احاطہ کیا گیا ہے اور دیگر اسکیموں کے ذریعہ سماجی تحفظ کو مضبوط کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے مغربی بنگال کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی کے سفر میںشراکت دار بنیں اور ریاست کو ایک نئی سمت دینے میں اپنا تعاون سیں۔ خوف سے پاک ماحول، بدعنوانی سے آزادی اور روزگار کے نئے مواقع کو یقینی بنانے کا ایک موقع سامنے ہے۔
خط کے اختتام میں ، وزیر اعظم نے 2026 میں ”وکست پشچم بنگال“بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے روشن مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ عوام کی حمایت سے مغربی بنگال ایک بار پھر ملک کی سرکردہ ریاستوں میں اپنا مقام بنائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد