چھتیس گڑھ میں سرگرم نکسلی تنظیم بی بی ایم خودسپردگی کے لیے تیار ، ریاست کے وزیر داخلہ کو خط لکھا
رائے پور، 23 فروری (ہ س)۔ چھتیس گڑھ میں سرگرم نکسلیوں کی بالانگیر-برگڑھ-مہاسمند ڈویژن (بی بی ایم) ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ بی بی ایم نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ وجے شرما کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 15 نکسلی 3 مارچ ت
چھتیس گڑھ میں سرگرم نکسلی تنظیم بی بی ایم خودسپردگی کے لیے تیار ، ریاست کے وزیر داخلہ کو خط لکھا


رائے پور، 23 فروری (ہ س)۔

چھتیس گڑھ میں سرگرم نکسلیوں کی بالانگیر-برگڑھ-مہاسمند ڈویژن (بی بی ایم) ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ بی بی ایم نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ وجے شرما کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 15 نکسلی 3 مارچ تک اپنے ہتھیاروں کے ساتھ خود سپردگی کر یں گے۔ شرما نے ان سے قومی دھارے میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

یہ اطلاع آج ڈپٹی چیف منسٹر کے دفتر نے جاری کی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ خط سی پی آئی (ماو¿سٹ) کے سکریٹری وکاس، ویسٹ سب زونل بیورو، اوڈیشہ اسٹیٹ کمیٹی، اور بی بی ایم ڈویژنل کمیٹی نے بھیجا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے ہتھیار وں سمیت قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے وزیر داخلہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ حفاظت کی ضمانت دیں۔ وکاس نے کہا ہے کہ وہ یقین دہانیوں کے بعد 2 اور 3 مارچ کے درمیان باہر آجائیں گے۔

خط کے مطابق، وہ فی الحال اوڈیشہ میں ہیں، لیکن ان کے زیادہ تر اراکین، جو کہ بستر علاقے سے ہیں، چھتیس گڑھ میں ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ ایک ٹیم سب کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ باقی ممبران آہستہ آہستہ پہنچ رہے ہیں۔ سبھی کو یکم مارچ تک کا وقت دیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ڈی وی سی کیڈر کے تین، اے سی کیڈر کے پانچ اور پی ایم کیڈر کے سات سمیت کل 15 ممبران خود سپردگی کے لیے تیار ہیں۔

خط میں زور دیا گیا ہے کہ نکسلائیٹس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے پولیس کومبنگ اور پریشر آپریشن روک دیا جائے، تاکہ نکسلائیٹ محفوظ طریقے سے مقررہ جگہ تک پہنچ سکیں۔ اوڈیشہ پولیس کو بھی مطلع کیا گیا ہے اور بالانگیر اور برگڑھ اضلاع میں تلاشی کارروائیوں کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔ نکسلیوں کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر سیکورٹی فورسز راستے میں آگے بڑھیں تو یہ گروپ بکھر جائے گا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ملک اور دنیا کے بدلے ہوئے معاشی، سماجی اور سیاسی حالات میں طویل المدتی مسلح جدوجہد جاری رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں رہا۔ لہذا، وہ مرکزی دھارے میں واپس آنے اور ہندوستانی آئین کے فریم ورک کے اندر عوامی بھلائی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ کا جواب کے بعد ہم باہر آجائیں گے۔ اس عمل کو مکمل ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ لگے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande