جے این یو میں طلبہ کے دو گروپوں میں تصادم؛ وائس چانسلر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ’سمتا جلوس‘ نکالا
نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کیمپس میں طلباءکے دو گروپوں نے پیر کی صبح ایک احتجاجی مارچ کے دوران ایک دوسرے پر تشدد کا الزام عائد کیا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) نے برخاستگی کے حکم کو
DELHI-JNU-STUDENTS-UNION-CLASH


نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کیمپس میں طلباءکے دو گروپوں نے پیر کی صبح ایک احتجاجی مارچ کے دوران ایک دوسرے پر تشدد کا الزام عائد کیا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) نے برخاستگی کے حکم کو واپس لینے اور وائس چانسلر شانتی شری دھولیپوڈی پنڈت کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے پوروی گیٹ کی طرف ’سمتاجلوس‘ نکالنے کی کال دی تھی۔

طلبہ کے مطابق مبینہ واقعہ اتوار کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا جہاں طلبہ کے درمیان تصادم کے بعد مبینہ پتھراو¿ میں متعدد طلبہ زخمی ہوگئے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں دو گروپوں کے درمیان مبینہ تصادم کے بارے میںاے بی وی پی کے ریاستی جوائنٹ سکریٹری وکاس پٹیل نے کہا کہ جے این یو میں وائس چانسلر کے خلاف ایک مارچ نکالا گیا، جس میں ان کو گھیرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے مارچ کا رخ اسکول آف لینگوئجز کی طرف موڑ دیا، جہاں گزشتہ سات دنوں سے ان کا احتجاج جاری تھا۔ وہاں سے، انہوں نے ان طلباء سے نمٹنے کا منصوبہ بنایا جو ان کے احتجاج میں شامل نہیں ہو رہے تھے۔ انہوں نے اپنی کلاسز اور لائبریری بند کر دیئے اور لیکچر روم میں تالا لگا دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ طلبا کو احتجاج میں شامل ہونے پر مجبور کر رہے تھے، تب طلباءکے راضی نہ ہونے پر ان کے کیڈر نے کچھ طلبا کے ساتھ مارپیٹ کی ۔ اس پر انہوں نے پولیس کو بلایااور پولیس کے پہنچنے کے بعد وہ گاڑدکی مدد سے کارکنوں کو بچانے میں کامیاب رہے ۔ جے این یو انتظامیہ سے بھی شکایت درج کروائی جائے گی۔گارڈ ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہیں، پولیس سیکورٹی بھی ناکافی تھی۔ پولیس زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئے، انسانی زنجیر بنائے اور ہمیں وہاں سے بچائے ۔

متاثرہ منیش نے بتایا کہ اتوار کو بائیں بازو کے لوگوں نے ایک جلوس نکالا۔ وہاں موجود لوگوں نے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی اور جب طلباءنے اس کی مخالفت کی تو ودیارتھی پریشد بھی وہاں پہنچ گئی اور انہوں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande