پٹنہ سول کورٹ نے آئی جی ایم سنیل نائک کی ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست کی مسترد
پٹنہ سول کورٹ نے آئی جی ایم سنیل نائک کی ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست کی مستردپٹنہ، 23 فروری (ہ س)۔ پٹنہ سول کورٹ میں پیر کے روز ہوئی سماعت میں بہار ہوم گارڈ اور فائر سروس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ایم سنیل کمار نائک کو راحت ملی۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مج
پٹنہ سول کورٹ نے آئی جی ایم سنیل نائک کی ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست کی مسترد


پٹنہ سول کورٹ نے آئی جی ایم سنیل نائک کی ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست کی مستردپٹنہ، 23 فروری (ہ س)۔ پٹنہ سول کورٹ میں پیر کے روز ہوئی سماعت میں بہار ہوم گارڈ اور فائر سروس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ایم سنیل کمار نائک کو راحت ملی۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ-12 (اے سی جے ایم ۔12) کی عدالت نے آندھرا پردیش پولیس کی طرف سے دائر ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی افسر کو مناسب کارروائی اور کافی دستاویزات کے بغیر ریاست سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سماعت کے دوران عدالت نے آندھرا پردیش پولیس کی تیاریوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ٹرانزٹ ریمانڈ دینے سے انکار کردیا۔

سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ پولیس اہلکار بغیر وردی کے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو بٹھا دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں آندھرا پردیش پولیس کے تین اہلکار بھی شامل تھے۔

دراصل آئی جی سنیل کمار نائک کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش)، جو فی الحال بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109 کے برابر ہے، کے تحت مقدمہ درج ہے۔ یہ معاملہ 2021 میں آندھرا پردیش کے نرساپورم میں سابق ایم پی رگھورام کرشنا راجوکی مبینہ حراست سے متعقل ہے۔ آندھرا پردیش پولیس نے اسی معاملے میں پٹنہ میں کارروائی کی تھی۔

اس سے پہلے پیر کی صبح آندھرا پردیش پولیس کی ایک ٹیم شاستری نگر تھانہ علاقے میں آئی جی نائک کی سرکاری رہائش گاہ پر پہنچی۔ مقامی پولیس کی موجودگی میں رہائش گاہ کے اندر تلاشی اور پوچھ گچھ کی گئی۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری کی اطلاع سامنے آئی۔ اس دوران رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی سخت کر دی گئی۔

گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی ہوم گارڈ کے اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچی اور کارروائی پر اعتراض کیا۔ ان کا الزام ہے کہ یہ کارروائی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جارہی ہے۔

عدالت کے فیصلے سے آئی جی نائک کو راحت ملی ہے۔ تاہم یہ معاملہ ابھی عدالتی کارروائی کے تحت ہے اور مزید کارروائی کا انحصار ہائی کورٹ یا متعلقہ جوڈیشل فورم کے فیصلے پر ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande