
نئی دہلی، 23 فروری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس لیڈر مارگریٹ الوا کے ذریعہ اے آئی سمٹ میں یوتھ کانگریس کے نیم برہنہ احتجاج پر تنقید کئے جانے پرکہا ہے کہ کانگریس پارٹی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ صرف عوام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہپہلے کانگریس پارٹی کو اس کے اتحادی اور عوام مسترد کرتے تھے، اب اس کے اپنے لیڈران بھی اسے مسترد کر رہے ہیں۔
بی جے پی کے ترجمان اور راجیہ سبھا کے رکن سدھانشو ترویدی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں اے آئی سمٹ میں یوتھ کانگریس کارکنوں کے نیم عریاں احتجاج کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس کی سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مارگریٹ الوا اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کے ذریعہ واقعہ کی مذمت کرنے پر بھی کانگریس پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ایسی حرکت شرمناک ہے۔ اب کانگریس پارٹی کے اندر بھی احتجاج کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کانگریس کا یہ عمل قابل مذمت اور شرمناک ہے۔
انہوں نے اسے پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں اس کانفرنس نے ہماری ذہانت اور اعلیٰ معیارکی عکاسی کی ، وہیں اس سے کانگریس پارٹی کی تنزلی بھی ظاہر ہوئی۔ کانگریس پارٹی کی اس حرکت سے پورا ملک ناراض ہے۔ کانگریس پارٹی کے اس کے رویے کی وجہ سے اب تک عوام اور اس کی اتحادی جماعت مسترد کر رہی تھیں، لیکن اب پارٹی کے سینئر لیڈر بھی انہیں مسترد کرنے لگے ہیں۔ ملک کی شبیہ کو خراب کرنا کانگریس کا ہمیشہ سے کردار رہا ہے۔
انہوں نے تلنگانہ کے وزیر اعلی ریونت ریڈی کے مسلمانوں سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریڈی نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ”کانگریس ہے تو مسلمان ہیں اور مسلمان ہیں تو کانگریس ہے“۔ اور اب کہتے ہیں، ”اگر گاندھی خاندان کو کوئی مالی ضرورت پڑتی ہے تو تلنگانہ کانگریس کے کارکن آسانی سے 1000 کروڑ روپئے اکٹھے کر کے انہیں دے سکتے ہیں۔“ وہ ملک کے پیسے کو اپنا پیسہ سمجھتے ہیں ۔ یہ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کی ذہنیت ہے۔
کانگریس پارٹی کی اصلیت کے بے نقاب ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان بیانات سے کانگریس پارٹی کا ایک اور چہرہ سب کے سامنے آ گیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں کانگریس پارٹی کی اصلیت پہلے ہی سب کے سامنے آ چکی تھی۔ اب باقی سچائی ریونت ریڈی کے اس بیان کے ذریعے سامنے آگئی ہے۔ ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ تلنگانہ کے عوام کے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس لیڈر مارگریٹ الوا نے اے آئی سمٹ میں پارٹی کارکنوں کے احتجاج پر تنقید کی تھی۔ ایک تقریب میں میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر ذمہ داری سے پیش آنا چاہیے۔ ہر ایک کو بین الاقوامی واقعات کے دوران وقار، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا جذبہ رکھنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد