زمین کے قریب مدار میں پوشیدہ عناصر کا سراغ
ازقلم : کریتیکا شرما ( امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی) زمین کے نچلے مدار کی خاموش اور لامتناہی وسعت میں ایک نہایت حسّاس نوعیت کا ’ چھپنے اور ڈھونڈنے ‘ کا کھیل جاری ہے۔ آج اس مدار میں 24 ہزار سے زائد اشیاءگردش کر رہی ہیں جن میں
زمین کے قریب مدار میں پوشیدہ عناصر کا سراغ


ازقلم : کریتیکا شرما ( امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی)

زمین کے نچلے مدار کی

خاموش اور لامتناہی وسعت میں ایک نہایت حسّاس نوعیت کا ’ چھپنے اور ڈھونڈنے ‘ کا کھیل جاری

ہے۔ آج اس مدار میں 24 ہزار سے زائد اشیاءگردش کر رہی ہیں جن میں اربوں ڈالر مالیت

کے سٹیلائٹس سے لے کر خلائی ملبے کے نوکیلے ٹکڑے تک شامل ہیں۔ اگلے پانچ برسوں میں

یہ تعداد 70 ہزار تک پہنچنے کی امید ہے ۔ اب ممالک کے لیے چیلنج صرف بھیڑ اور

ٹکراؤ کے خطرات سے نمٹنا ہی نہیں، بلکہ اپنے اثاثوں کو دشمن یا غیر ذمہ دار عناصر

کی جانب سے دانستہ مداخلت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔

اس مسابقتی ماحول میں

صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کوئی شئےرڈار

پر نظر آرہی ہے بلکہ اس کے مقاصد کو سمجھنا بھی

ضروری ہے۔ جب کوئی سٹیلائٹ روپوش

ہونا چاہتا ہے، یا غیر متوقع طور پر اپنی سمت تبدیل کرتا ہے، تو روایتی زمینی

نگرانی (ٹریکنگ) اکثر ناکام ہو جاتی ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے امریکی محکمۂ

دفاع کے ڈیفنس اِنوویشن یونٹ (ڈی آئی یو) نے، امریکی اسپیس فورسز۔انڈو پیسیفک اور

اسپیس ڈومین اویئرنیس ٹولس، ایپلی کیشنس اینڈ پروسیسنگ لیب کے اشتراک اور ہندوستان

کے ’انوویشنس فار ڈیفنس اکسیلینس‘ (آئی ڈی ایکس) کے تعاون سے ’ڈوئل ہورائزنس: یو

ایس-انڈیا سٹیلائٹ ٹریکنگ چیلنج‘ کا آغاز

کیا ہے۔ یہ ایک دوطرفہ کوشش ہے جس کا مقصد اسپیس ڈومین اویئرنیس کی اگلی نسل کو

فروغ دینا ہے۔

بھیڑ کے بحران کا حل

مسئلے کو سمجھنے کے

لیے یہ تصور کریں کہ آپ ایک خودکار گاڑی (سیلف ڈرائیونگ وہیکل) کو ایسے صحرا میں

چلا رہے ہیں جہاں نہ کیمرے ہیں نہ جی پی ایس۔ اس کی جگہ جانچنے کا واحد طریقہ یہ

ہے کہ وہ کسی مقررہ، جامد چیک پوائنٹ سے گزرے۔ اب اس میں ہزاروں دوسری گاڑیاں شامل

کر دیں جو 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہوں۔ اگر کوئی گاڑی اچانک مڑ

جائے تو وہ نظام کے لیے عملاً ’’گم‘‘ ہو جاتی ہے۔

روایتی خلائی صورتحال

کی آگاہی کی حقیقت یہی ہے۔ اس کے معیاری طریقے مدار کے قابلِ پیش گوئی ریاضیاتی

حساب کتاب پر انحصار کرتے ہیں؛ یعنی اگرسٹیلائٹ طے شدہ ’اسکرپٹ‘ کے مطابق چلے، تو

ہمیں اس کے مقام کا علم رہتا ہے۔ لیکن جدید حریف اوجھل ہونے کے لیےپردہ پوشی اور فریب

کارانہ چالوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جب کوئی سٹیلائٹ اپنے متوقع راستے سے ہٹ جاتا ہے،

تو اسے دوبارہ ڈھونڈ نکالنے میں گھنٹے یا دن لگ سکتے ہیں، جس سے اہم بنیادی ڈھانچہ

خطرات کی زد میں آ جاتا ہے۔

بینگالورو میں قائم

اسٹارٹ اپ ’ڈِینگتارا‘ کے بانی اور ’ ڈوئل ہورائزنز ‘ چیلنج کے فاتحین میں شامل

انیرودھ شرما ایک بڑی جغرافیائی کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

اس وقت امریکہ کے

بنیادی سینسرس آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں نصب ہیں۔ شرما کے مطابق ’’ان کے

درمیان ایک بہت بڑا خلا ہے‘‘، اور وہ بتاتے ہیں کہ ڈیگنتاراامریکی اداروں کے ساتھ

مل کر اسی خطے میں سٹیلائٹ سرگرمیوں کی نگرانی کا کام کررہی ہے۔

ڈیگنتارا کا کامیاب

حل، اسپیکٹرے (سرویلنس اینڈ پرسِسٹنٹ ایویلیوایشن فار کیریکٹرائزنگ اینڈ ٹریکنگ)،

انہی بلائنڈ اسپاٹس کو روشن کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ زمینی نقطۂ نظر کی

بجائے خلا ء سے دیکھتے ہوئے، اسپیکٹرے

مدار سے خلائی اشیا کو ٹریک کرتا ہے۔

شرما وضاحت کرتے ہیں ’’روایتی

طور پر نظام زمینی ہوتے ہیں—یعنی رڈار یا ٹیلی اسکوپس۔ ہمارا حل مدار سے ٹریک

(نگرانی) کرتا ہے، اس طرح ہم فضائی اثرات (ایٹموسفیرک ڈسٹورشنس) اور فاصلے کی حدود

سے متعلق مسائل سے بچ جاتے ہیں۔‘‘ خلا ءمیں متحرک پلیٹ فارم کے استعمال سے ڈیگنتارا

اثاثوں پر مستقل ’’نگاہ‘‘ رکھ پاتی ہے، جس سے تواتر کے ساتھ ڈیٹا جمع ہوتا ہے اور

درستگی کا معیار نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

دوطرفہ حفاظتی حصار

کی مضبوطی

جہاں زیادہ تر کمرشل

کمپنیاں فضا میں موجود اشیاء کی معلومات کے لیے امریکی محکمۂ دفاع کے ’’کیٹلاگ‘‘

پر انحصار کرتی ہیں، وہیںڈیگنتارااپنا خودمختار ڈیٹا ذخیرہ تیار کر رہی ہے۔ اس کے

سینسر سافٹبال کے برابر چھوٹی اشیا ء کی بھی شناخت کر سکتے ہیں، جو معلومات کی ایک

منفرد سطح فراہم کرتے ہیں۔

یہ خودمختاریڈیگنتاراکو

حریف بنانے کے بجائے ایک اہم شراکت دار بناتی ہے۔ اس وقت کمپنی امریکہ کے ساتھ

ڈیٹا شیئرنگ معاہدے کے تحت کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے اس کے بلائنڈ اسپاٹ سے حاصل

شدہ ڈیٹا کو امریکی فوجی کیٹلاگ کے ساتھ مؤثر طور پر یکجا کیا جاتا ہے۔

نظاموں کی باہمی

مطابقتاس کامیابی کا ’پلگ اینڈ پلے‘ راز ہے۔ اسپیکٹرے کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے

کہ وہ موجودہ مشن نیٹ ورکس میں بغیر کسی رکاوٹ کے ضم ہو سکے، تاکہ کمانڈرس کو اپنا

سافٹ ویئر ازسرِنو بنائے بغیر اعداد و شمار بر وقت مل سکیں۔

اب امریکہ میں دفاتر

اور ہند-بحرالکاہل خطے میں گہرے روابط کے ساتھ، ڈیگنتاراایک ’سسٹمس انٹیگریٹر‘کے

طور پر مستحکم ہو رہی ہے۔

نئی سرحد: ٹریکنگ سے

آگے

ڈیگنتارا کی کامیابی امریکہ۔ہندوستان اشتراکِ عمل کی ایک

نمایاں مثال ہے۔ شرما کا یہ سفر امریکی محکمۂ خارجہ کے پروگراموں، جیسے انٹرنیشنل

وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی)، کے ذریعے ممکن ہوا، جنہوں نے انہیں امریکی

دفاعی ماحولیاتی نظام (ڈیفنس ایکو سسٹم) کا حصہ بننے اور روابط استوار کرنے میں

مدد فراہم کی۔

شرما کہتے ہیں ’’ہم

امریکی مارکیٹ میں توسیع کے تحت اپنے امریکی دفتر میں مزید سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے

ہیں۔ ہم ایک مخصوص ٹیم اور سہولت قائم کر رہے ہیں جو سٹیلائٹ اور پے لوڈ اسمبلی،

نیز میزائل ڈیفنس ایپلی کیشنس پر توجہ دے گی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’امریکہ میں

قائم ایک پروگرام کے لیے ہمارے حالیہ انتخاب نے ہمیں اس سرمایہ کاری اور اس اقدام

کے آغاز کے لیے اعتماد اور بنیاد فراہم کی ہے۔‘‘

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande