ایران پر حملے کے خلاف ہیںٹرمپ کے مشیر، معیشت پر توجہ دینے کا مشورہ
واشنگٹن،22فروری(ہ س)۔مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کے ممکنہ فیصلے کی تیاریوں کے درمیان باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے بعض معاونین انہیں ووٹرز کے معاشی خدشات پر زیادہ توجہ دینے پر زور
ایران پر حملے کے خلاف ہیں ٹرمپ کے مشیر، معیشت پر توجہ دینے کا مشورہ


واشنگٹن،22فروری(ہ س)۔مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کے ممکنہ فیصلے کی تیاریوں کے درمیان باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے بعض معاونین انہیں ووٹرز کے معاشی خدشات پر زیادہ توجہ دینے پر زور دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل فوجی تناو¿ کے سیاسی خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔وائٹ ہاو¿س کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ تہران کے خلاف ٹرمپ کے سخت لہجے کے باوجود امریکی انتظامیہ کے اندر ایران پر حملے کے حوالے سے کوئی متحد موقف یا حمایت موجود نہیں ہے، جیسا کہ خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔اہلکار نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے معاونین اس ضرورت سے بھی آگاہ ہیں کہ ایسے پیغامات سے گریز کیا جائے جو معیشت پر توجہ مرکوز کرنے والے تذبذب کا شکار ووٹرز کا ذہن بھٹکا دیں۔ وائٹ ہاو¿س کے مشیر اور ریپبلکن مہم کے عہدیدار چاہتے ہیں کہ ٹرمپ معیشت پر توجہ دیں، جسے اس ہفتے ایک خصوصی بریفنگ کے دوران مہم کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا گیا تھا۔ اس بریفنگ میں متعدد وزراءنے شرکت کی، تاہم ٹرمپ وہاں موجود نہیں تھے۔

دوسری جانب وائٹ ہاو¿س کے ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے تمام اقدامات امریکہ فرسٹ کی پالیسی کے تحت ہیں، خواہ وہ دنیا کو محفوظ بنانا ہو یا ملک کے لیے معاشی فوائد حاصل کرنا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور ایرانی فریق کو وقت ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔ امریکی صدر نے اس بات پر بھی سختی سے زور دیا ہے کہ تہران کے پاس ایٹمی ہتھیار یا انہیں بنانے کی صلاحیت، یہاں تک کہ یورینیم کی افزودگی کا ہونا بھی ناممکن ہے۔ریپبلکن مشیر روب گوڈفری کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ طویل تنازع میں الجھنا ٹرمپ اور ریپبلکنز کے لیے بڑا سیاسی خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ جس سیاسی بنیاد نے انہیں مسلسل تین بار ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی دلائی، وہ غیر ملکی فوجی مداخلت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے، کیونکہ ابدی جنگوں کے دور کا خاتمہ ان کی انتخابی مہم کا واضح وعدہ تھا۔سینیٹر لنڈسے گراہم نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کے گرد موجود متعدد افراد انہیں ایران پر بمباری نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، لیکن انہوں نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ ان مشوروں کو نظر انداز کریں۔یہ معلومات اور موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نومبر میں ہونے والے انتخابات یہ طے کریں گے کہ آیا ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔ کسی بھی ایک یا دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی جیت ٹرمپ کی صدارت کے آخری سالوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔ریپبلکنز اپنی مہم میں گذشتہ سال کانگریس سے منظور شدہ ٹیکس چھوٹ، ہاو¿سنگ کی لاگت میں کمی اور ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے پروگراموں پر توجہ مرکوز کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے، جو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حملے کی دھمکی دیتے رہے ہیں، گذشتہ جمعہ کو دوبارہ خبردار کیا کہ تہران کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایک منصفانہ ڈیل پر بات چیت کرے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande