
ریاض،22فروری(ہ س)۔خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹریٹ سمیت 15 عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیل کے لیے متعین امریکی سفیر کے ان بیانات پر شدید مذمت اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے سمیت عرب علاقوں پر اسرائیل کے کنٹرول کو قبول کرنے کا اشارہ دیا ہے۔سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر، ترکیہ، شام، فلسطین، کویت، لبنان، عمان اور بحرین کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کی سکیورٹی و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ان ممالک نے واضح کیا کہ اس طرح کے موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ ویڑن اور غزہ میں تنازعے ختم کرنے کے اس جامع منصوبے کے مکمل منافی ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور امن کے حصول کے لیے حقیقی سیاسی افق تلاش کرنے پر مبنی ہے۔مسلمان اور عرب ممالک کی وزارت ہائے خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ دوسروں کی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنے والا کوئی بھی بیان رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ امن میں کردار ادا کرنے کے بجائے ایسے بیانات تناو¿ کو ہوا دیتے ہیں اور واضح اشتعال انگیزی کا باعث بنتے ہیں۔ان ممالک نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی زمین یا کسی بھی دوسری عرب سرزمین پر اسرائیل کی کوئی خود مختاری نہیں ہے۔ مغربی کنارے کو ضم کرنے یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی سرگرمیوں کو مسترد کیا گیا ہے۔ اسی طرح عرب ممالک کی خود مختاری کے لیے کسی بھی خطرے کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ان ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جاری توسیعی پالیسیاں اور یک طرفہ اقدامات صرف تشدد اور تنازعات کو مزید بھڑکانے کا سبب بنیں گے اور کسی بھی منصفانہ سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے امکانات کو ختم کر دیں گے۔بیان کے اختتام پر شریک ممالک نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور سنہ 1967 کی حدود پر اپنی آزاد ریاست کے قیام کے ناقابل تنسیخ حق کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا تاکہ تمام مقبوضہ عرب علاقوں سے قبضے کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan