
جموں, 22 فروری (ہ س)۔
ضلع کشتواڑ میں اتوار کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد کے تین دہشت گرد مارے گئے۔حکام نے بتایا کہ فورسز نے تراشی-اوّل آپریشن کے دوران چھاترو بیلٹ کے پاسرکوٹ علاقے میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران جس کچے مکان میں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جس کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی لاشیں بری طرح جھلس گئیں اور ناقابلِ شناخت ہو گئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں سیف اللہ نامی ایک مبینہ کمانڈر بھی شامل ہو سکتا ہے، جو تقریباً پانچ سال قبل دراندازی کر کے جموں و کشمیر میں داخل ہوا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ جولائی 2024 میں چار فوجیوں کی ہلاکت سمیت کئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث رہا اور اس سے قبل متعدد جھڑپوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ تاہم لاشوں کی باضابطہ شناخت کا عمل جاری ہے۔
شام گئے تیسرے دہشت گرد کی لاش بھی جلے ہوئے ٹھکانے سے ایک ہتھیار سمیت برآمد کر لی گئی۔ موقع سے دو اے کے-47 رائفلیں اور گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔فوج کی وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ آپریشن قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا، جو جموں و کشمیر پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور دیگر ذرائع سے موصول ہوئی تھیں۔ انسدادِ انٹیلی جنس فورس ڈیلٹا کے دستوں نے پولیس اور سی آر پی ایف کے تعاون سے صبح تقریباً 11 بجے دشوار گزار علاقے میں دہشت گردوں کا دوبارہ سامنا کیا۔کور کے بیان میں کہا گیا کہ جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے پر کنٹرول برقرار رکھا۔ بیان میں عزم ظاہر کیا گیا کہ امن میں خلل ڈالنے والوں کو کوئی پناہ نہیں دی جائے گی۔
شمالی کمان کے آرمی کمانڈر پرتیک شرما نے جوانوں کی فوری اور مؤثر کارروائی کی ستائش کی اور مشکل جغرافیائی و موسمی حالات میں ان کی ثابت قدمی کو سراہا۔ انہوں نے دہشت گردی سے پاک جموں و کشمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔
حکام کے مطابق سرچ پارٹی کے قریب پہنچتے ہی دہشت گردوں نے کچے مکان کے اندر سے فائرنگ شروع کر دی، جس سے شدید جھڑپ چھڑ گئی اور مکان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ انٹیلی جنس اطلاعات میں سیف اللہ اور اس کے دو پاکستانی ساتھیوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
چھاترو کے جنگلاتی علاقے میں 18 جنوری کے بعد سے تقریباً نصف درجن جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں قبل ازیں ایک فوجی شہید اور ایک پاکستانی دہشت گرد مارا جا چکا ہے۔اتوار کی کارروائی کے ساتھ رواں برس جموں خطے میں مختلف جھڑپوں کے دوران جیشِ محمد کے سات دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل 4 فروری کو ادھم پور کے رام نگر جنگل میں دو جبکہ 23 جنوری کو کٹھوعہ کے پرہیتر گاؤں میں ایک دہشت گرد ہلاک کیا گیا تھا۔
دریں اثنا، ایک علیحدہ واقعے میں ضلع سانبہ کے پانگڈور چوک پر ہفتہ کی دیر شام چیکنگ کے دوران ایک ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے موبائل فون سے پاکستان کے متعدد رابطہ نمبر برآمد ہوئے۔ ٹرک کشمیر کی جانب جا رہا تھا کہ اسے ناکے پر روکا گیا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر