
تہران،22فروری(ہ س)۔ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے نئے دور کے انتظار کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بہتر رویہ اختیار کرے گا۔ویٹکوف نے ’ فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایٹمی مذاکرات کے دوران ایرانی فریق پر دباو¿ ڈال رہے ہیں۔ویٹکوف نے کہا کہ ایران شاید ایٹم بم بنانے سے ایک ہفتہ دور ہے اور ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی سویلین ایٹمی مقاصد سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکی ایلچی نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر حیران ہیں کہ ایرانیوں نے شدید دباو¿ کے باوجود ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے گذشتہ روز ہفتے کو اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے تناظر میں عالمی قوتوں کے دباو¿ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک اگلے دو روز کے دوران ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق کو کسی معاہدے یا حل کا مسودہ پیش کرے گا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ عرصے کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔امریکی صدر نے رواں برس جنوری کے آغاز میں ان احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے ایرانی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سفاکیت کے جواب میں حملوں کی دھمکی دی تھی جو پورے ملک میں پھیل گئے تھے تاہم بعد میں وہ اس سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔حالیہ عرصے میں انہوں نے اپنی فوجی دھمکیوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے مطالبات سے جوڑ دیا ہے اور نظام کی تبدیلی کا خیال بھی پیش کیا ہے لیکن انہوں نے یا ان کے معاونین نے یہ واضح نہیں کیا کہ فضائی حملے اس ہدف کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔وائٹ ہاو¿س کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی کہ تہران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیان کے باوجود اب تک ان کی انتظامیہ کے اندر کسی بھی حملے کے لیے کوئی متحد حمایت موجود نہیں ہے جیسا کہ روئیٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی اور امریکی فریقین نے رواں ماہ فروری سنہ 2026ءکے دوران غیر براہ راست ایٹمی مذاکرات کے دو دور مکمل کیے ہیں جن میں سے ایک مسقط اور دوسرا جنیوا میں ہوا اور دونوں نے ماحول کو مثبت قرار دیا ہے۔ اب جلد ہی تیسرے دور کے انعقاد کا امکان ہے تاہم دونوں فریقوں نے ابھی تک اس کی تاریخ طے نہیں کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan