اسرائیل کا حزب اللہ پر میزائل قوت کی بحالی کا الزام
تل ابیب،22فروری(ہ س)۔مذاکرات کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوابی دھمکیوں کے تناظر میں اسرائیلی سکیورٹی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو لبنان میں حزب اللہ متحرک ہو سکتی ہے۔اسرائیلی انٹیلی
اسرائیل کا حزب اللہ پر میزائل قوت کی بحالی کا الزام


تل ابیب،22فروری(ہ س)۔مذاکرات کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوابی دھمکیوں کے تناظر میں اسرائیلی سکیورٹی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو لبنان میں حزب اللہ متحرک ہو سکتی ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس کی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق حزب اللہ اپنی میزائل قوت کو دوبارہ منظم کرنے اور اس کی بحالی کے کام میں تیزی لا رہی ہے، جیسا کہ واللا ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی عسکری انٹیلی جنس کے شعبے اور شمالی کمانڈ نے گذشتہ عرصے کے دوران حزب اللہ کی میزائل سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور ان کے تجزیے کے لیے بھرپور کوششیں کیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس (امان) کی جانب سے فراہم کردہ درست معلومات کی بنیاد پر گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں فضائی حملے کیے گئے جن میں حزب اللہ کے 10 ارکان ہلاک ہو گئے، جن میں فیلڈ کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ ’واللا‘ کے مطابق ان حملوں میں لبنان میں حزب اللہ کی میزائل یونٹ کے زیر استعمال تین مختلف ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی طرح حزب اللہ بھی متوقع فوجی حملے کے لیے تیاریاں کر رہی ہے اور آنے والی جنگ کو روکنے کے لیے اپنی عسکری و سکیورٹی تنظیم نو کے اجلاسوں میں اضافہ کر دیا ہے۔العربیہ اور الحدث کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت تنظیم کا انتظام لبنانی قیادت کے بجائے ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران سنبھال رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ افسران پہلے سے لبنان میں موجود تھے جبکہ دیگر امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی خبروں کے بعد حال ہی میں وہاں پہنچے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ ایرانی افسران نہ صرف حزب اللہ کی صلاحیتوں کی دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں بلکہ وہ ذاتی طور پر جنگی منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے کیڈرز کو ہدایات دینے کے لیے اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک اجلاس بقاع میں میزائل یونٹ کا تھا جسے اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کی رات نشانہ بنایا۔ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم اب ناگزیر ہو چکی ہے اور اب یہ محض وقت کا معاملہ ہے۔گذشتہ روز ہفتے کو لبنان کے مشرقی شہر بعلبک پر اسرائیلی حملوں میں اپنے آٹھ ارکان کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ اس کے پاس واحد راستہ مزاحمت ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بعلبک میں حزب اللہ کی میزائل یونٹ کے ارکان اور اس سے وابستہ تین مراکز کو نشانہ بنایا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے آٹھ ارکان اس وقت مارے گئے جب وہ ایک اجلاس میں شریک تھے۔ حزب اللہ نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینلز پر ہلاک ہونے والوں کی تصاویر جاری کیں جن میں کمانڈر حسین محمد یاغی بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ یہ اسرائیلی فضائی حملے جنوبی لبنان میں صیدا کے قریب واقع فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ عین الحلوہ پر بمباری کے کچھ گھنٹوں بعد کیے گئے، جس میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق دو افراد جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے وہاں حماس کے ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande