اسرائیل کی غزہ میں رہائشی علاقوں تک ’یلو لائن‘ کی توسیع، 60 فیصد رقبے پر قبضہ
غزہ،22فروری(ہ س)۔فلسطینی سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے بتایا ہے کہ بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی وسیع تر انسانی ضروریات کے باوجود تاحال غزہ کی پٹی میں کوئی ایک بھی موبائل ہوم داخل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بنجمن نیتن یاھو کی فوج پ
اسرائیل کی غزہ میں رہائشی علاقوں تک ’یلو لائن‘ کی توسیع، 60 فیصد رقبے پر قبضہ


غزہ،22فروری(ہ س)۔فلسطینی سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے بتایا ہے کہ بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی وسیع تر انسانی ضروریات کے باوجود تاحال غزہ کی پٹی میں کوئی ایک بھی موبائل ہوم داخل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بنجمن نیتن یاھو کی فوج پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ کے وسیع رقبے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور نام نہاد ’یلو لائن‘ کا دائرہ کار رہائشی علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔جرمن نیوز ایجنسی ’ڈی پی اے‘کو موصول ہونے والے بیانات میں امجد الشوا نے مزید کہا کہ ہزاروں خاندان اب بھی بوسیدہ خیموں میں یا کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ پناہ گاہوں کے حوالے سے کسی حقیقی حل کی عدم موجودگی اور انسانی ہمدردی کے معاہدوں میں شامل موبائل ہومز کی آمد کی اجازت نہ ملنے سے صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔

امجد الشوا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوج عملی طور پر غزہ کی پٹی کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر قابض ہو چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’یلو لائن‘ کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث شہریوں کے لیے دستیاب جگہ مزید کم ہو گئی ہے، بالخصوص غزہ کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے تسلسل سے امدادی سرگرمیاں پیچیدہ ہو رہی ہیں اور مقامی و بین الاقوامی اداروں کی رسائی ان طبقات تک محدود ہو گئی ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پناہ گاہوں کے سامان، تعمیراتی مواد اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تمام راہداریاں مکمل اور مستقل طور پر کھولی جائیں۔راہداریوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امجد الشوا نے بتایا کہ امداد کی آمد اب بھی مطلوبہ معیار سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی مواد اور تیار شدہ گھروں کی آمد پر عائد پابندیاں گذشتہ کئی ماہ سے جاری رہائشی بحران کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سات اکتوبر سنہ 2023 ئ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی شدید انسانی بحران کی زد میں ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے اور مکانات کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔اگرچہ گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ عمل میں آیا تھا، تاہم غزہ کے مقامی اداروں کا کہنا ہے کہ نقل و حرکت اور راہداریوں پر پابندیاں امداد اور تعمیراتی مواد کی آمد کی رفتار کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ’یلو لائن‘ کی اصطلاح ان علاقوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جہاں اسرائیلی افواج تعینات ہیں یا جنہیں سرحد کے قریب ’بفر زون‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے، جس کی وجہ سے رہائشی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے دستیاب زمین سکڑتی جا رہی ہے۔عالمی اور مقامی اداروں کے تخمینے کے مطابق لاکھوں فلسطینی تاحال مستقل یا عارضی پناہ گاہوں کے منتظر ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ غزہ کی راہداریوں سے تعمیر نو اور انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنایا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande