
واشنگٹن،21فروری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وائٹ ہاو¿س میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر دباو ڈالنے کے لیے کسی محدود حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ ہو سکے تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔ یہ بات رائٹرز نے بتائی ہے۔اس سے قبل باخبر ذرائع نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ امریکی افواج کو ایران پر ممکنہ حملوں کے اہداف کی فہرست موصول نہیں ہوئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی مخصوص فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم نیٹ ورک نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اب وہ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کم دیکھ رہے ہیں جو امریکی صدر کے تمام مطالبات کو پورا کر سکے۔ اس سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ایک ابتدائی محدود حملے پر غور کر رہے ہیں۔اخبار نے مزید کہا کہ تہران کے خلاف ممکنہ امریکی حملے میں فوجی اور حکومتی مقامات شامل ہوں گے۔ اخبار نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے انکار کیا تو واشنگٹن اس کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا سہارا لے گا۔ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کسی نہ کسی طریقے سے معاہدے کی طرف بڑھے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر تہران نے جواب نہ دیا اور پیش کردہ مفاہمت پر اتفاق نہ کیا تو برے واقعات پیش آئیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی آپشن اب بھی موجود ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لیے کھلا نہیں رہے گا۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط بھیجا جس میں امریکی صدر کے بیانات کو فوجی جارحیت کے حقیقی امکان کا اشارہ قرار دیا گیا۔ ایرانی خط میں وضاحت کی گئی ہے کہ تہران کشیدگی نہیں چاہتا اور جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن فوجی حملہ ہونے کی صورت میں جواب دے گا۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ اصل قوت کے تمام اڈے اور تنصیبات جائز اہداف ہوں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan