
واشنگٹن،21فروری(ہ س)۔دو امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی فوجی منصوبہ بندی ایڈوانس مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ اس میں حملے کے دوران افراد کو نشانہ بنانے، بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تہران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش جیسے اختیارات شامل ہیں۔ فوجی آپشنز اس بات کی تازہ ترین علامت ہیں کہ سفارتی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں امریکہ ایران کے ساتھ ایک سنگین تنازع کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
رائٹرز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ دی تھی کہ امریکی فوج ایران پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے جس میں ایٹمی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی تنصیبات پر بمباری بھی شامل ہو سکتی ہے۔ حالیہ معلومات ٹرمپ کے فیصلے سے قبل زیادہ تفصیلی اور پرجوش منصوبہ بندی کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ چند دنوں میں علانیہ طور پر ایران میں برسرِاقتدار حکومت کی تبدیلی کا خیال پیش کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد تہران چند دنوں میں امریکہ کو معاہدے کا مسودہ پیش کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ عراقچی نے امریکی چینل ایم ایس این بی سی کے پروگرام مارننگ جو کو دیے گئے انٹرویو ، جو جمعہ کو نشر ہوا، میں کہا کہ میرا اگلا قدم امریکہ میں اپنے ہم منصبوں کو ایک ممکنہ معاہدے کا مسودہ پیش کرنا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ دو یا تین دن میں تیار ہو جائے گا اور میرے سربراہان کی حتمی منظوری کے بعد اسے سٹیو وٹکوف کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یہ بات فرانس پریس کے حوالے سے بتائی گئی۔عراقچی نے جمعہ کو اس بات پر زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ راستہ پہلے آزمایا جا چکا ہے، ہماری تنصیبات پر بڑے حملے کیے گئے، ہمارے سائنسدانوں کو شہید کیا گیا، لیکن وہ ہمارے جوہری پروگرام کو ختم نہیں کر سکے۔ عراقچی نے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں وضاحت کی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پروگرام ہمارے اپنے ہاتھوں اور ہمارے سائنسدانوں کی کوششوں سے تیار ہوا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہماری ہے اور اسے بمباری یا فوجی کارروائی سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ واحد حل سفارت کاری ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکہ مذاکرات کی میز پر واپس آگیا ہے اور معاہدہ چاہتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan