ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کے دورہ پر رہیں گے
واشنگٹن،21فروری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یہ دورہ سپریم کورٹ کی جانب سے ان درآمدی محصولات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد طے پایا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر عائد کیے تھے۔ وائٹ ہاوس
ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کے دورہ پر رہیں گے


واشنگٹن،21فروری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یہ دورہ سپریم کورٹ کی جانب سے ان درآمدی محصولات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد طے پایا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر عائد کیے تھے۔ وائٹ ہاوس کے ایک اہل کار نے جمعے کو اس دورے کی تصدیق کی، جس کے کچھ ہی دیر بعد عدالت نے ان محصولات کو ختم کر دیا جو ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ اکثر تناو کا شکار رہنے والے تعلقات کو سنبھالنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیے تھے۔توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ایک پر وقار اور طویل دورے کے دوران ملاقات کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا آخری دورہ 2017 میں ہوا تھا، جو کسی بھی امریکی صدر کا اس ایشیائی ملک کا حالیہ ترین دورہ بھی ہے۔ اس ملاقات میں تجارتی جنگ بندی میں توسیع کا معاملہ سب سے اہم ہوگا، جس نے دونوں ممالک کو محصولات میں مزید اضافے سے روک رکھا ہے۔ تاہم، حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ چین سے ہونے والی درآمدات پر دوبارہ محصولات عائد کر سکیں گے اور اس کے لیے ان کے پاس کیا قانونی اختیار ہوگا۔امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ تجارتی عدم توازن اور فینٹانیل سے متعلق غیر قانونی کیمیکلز کی پیداوار میں چین کے کردار کے باعث پیدا ہونے والی قومی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے یہ محصولات ناگزیر ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی رہنماوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک انتہائی دلچسپ دورہ ہوگا، ہمیں وہ سب سے بڑا مظاہرہ پیش کرنا ہے جو چین نے اپنی تاریخ میں کبھی دیکھا ہو۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے ابھی تک اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا اور بیجنگ نے بھی اس دورے کی با ضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔یہ دورہ اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماوں کے درمیان پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے اس شرط پر محصولات کم کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ بیجنگ فینٹانیل کی غیر قانونی تجارت کے خلاف مہم سخت کرے گا، امریکہ سے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرے گا اور نایاب معدنیات کی برآمدات کو یقینی بنائے گا۔ اگرچہ ماضی میں تائیوان کے حساس معاملے سے گریز کیا گیا تھا، لیکن شی جن پنگ نے فروری میں تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت کا معاملہ اٹھایا۔ واشنگٹن نے دسمبر میں تائیوان کے ساتھ 11.1 ارب ڈالر کے اسلحے کا معاہدہ کیا تھا، جسے چین اپنی سالمیت کے خلاف سمجھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے امریکی کسانوں کا مفاد اہم ہے، اس لیے وہ سویابین کی خریداری میں اضافے کے منتظر ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande