
کٹھمنڈو، 21 فروری (ہ س)۔ نیپال کے صوبہ مدھیش کے ضلع روتہٹ میں گورمیونسپلٹی کے سن گڑھ گاو¿ں میں دو برادریوں کے درمیان تنازعہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے اور تین دن گزرنے کے بعد بھی حل نہیں ہو سکا ہے۔ جمعرات کی رات معمولی تنازعہ کے طور پر شروع ہوا واقعہ اب آگزنی اور توڑ پھوڑ تک پہنچ گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، جھگڑا شادی کی تقریب کے دوران گانے بجانے پر ہوا۔ قریب ہی واقع ایک مسجد میں رات کی نماز کے دوران موسیقی بجانے سے صورتحال کشیدہ ہو گئی،جس کے بعد گرما گرم بحث ہوئی اور کچھ لوگوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ بھی کی گئی ۔ جمعہ کی صبح پھر سے دونوں فریقوں کے درمیان پتھراو¿ کی اطلاع ہے ، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بدامنی بتدریج دیگر قریبی علاقوں تک پھیل گئی ہے۔
اس دوران ، ضلع انتظامیہ کے دفتر، روتہٹ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر گور-6 کے کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ چیف ڈسٹرکٹ آفیسر کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اگلے حکم تک اجتماعات، جلوس، ریلیاں، دھرنے، نعرے بازی اور اسی طرح کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مقررہ علاقوں میں پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی اور مظاہرے یا اشتعال انگیز سرگرمیاں ممنوع ہوں گی۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ گور میونسپلٹی کے حساس علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کیے گئے ہیں اور حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام نے مقامی باشندوں سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے۔ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد