
تہران،21فروری(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد تہران چند دنوں میں امریکہ کو معاہدے کا مسودہ پیش کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ عراقچی نے امریکی چینل ایم ایس این بی سی کے پروگرام مارننگ جو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ میرا اگلا قدم امریکہ میں اپنے ہم منصبوں کو ایک ممکنہ معاہدے کا مسودہ پیش کرنا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ دو یا تین دن میں تیار ہو جائے گا اور میرے سربراہان کی حتمی منظوری کے بعد اسے سٹیو وٹکوف کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یہ انٹرویو جمعہ کے روز نشر ہوا۔
عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ راستہ پہلے آزمایا جا چکا ہے، ہماری تنصیبات پر بڑے حملے کیے گئے، ہمارے سائنسدانوں کو شہید کیا گیا لیکن وہ ہمارے جوہری پروگرام کو ختم نہیں کر سکے۔ عراقچی نے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں وضاحت کی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پروگرام ہمارے اپنے ہاتھوں اور ہمارے سائنسدانوں کی کوششوں سے تیار ہوا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہماری ہے اور اسے بمباری یا فوجی کارروائی سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ واحد حل سفارت کاری ہے۔ امریکہ مذاکرات کی میز پر واپس آگیا ہے اور معاہدہ چاہتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم امن کے لیے تیار ہیں، ہم سفارت کاری کے لیے تیار ہیں، اسی طرح جیسے ہم اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ اگر کوئی ایرانی جوہری پروگرام کا حل تلاش کر رہا ہے اور اس کے پرامن رہنے کو یقینی بنانا چاہتا ہے تو اس کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارتی حل ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے تہران سے یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فریقین کے درمیان کام جاری ہے۔ ہم نے افزودگی روکنے کی کوئی تجویز نہیں دی اور نہ ہی امریکی فریق نے ” زیرو افزودگی “ کا کوئی مطالبہ پیش کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ چند روز قبل جنیوا میں ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی اور ہم جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں سے متعلق مسائل پر بحث کرنے میں کامیاب رہے اور مذاکرات کے رہنما اصولوں اور کسی بھی معاہدے کی ممکنہ شکل پر ایک مفاہمت تک پہنچ گئے۔ پھر ہم سے کہا گیا کہ اگلی میٹنگ میں بحث کے لیے ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کریں اور اس کے متن پر مذاکرات شروع کریں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے، یہ وہ راستہ ہے جو ہمارے سامنے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات کا یہی فطری راستہ ہوتا ہے۔ ہم نے اس پر چلنے کا اتفاق کیا ہے۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ہم اب اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ افزودگی سمیت ایرانی جوہری پروگرام پرامن رہے اور ہمیشہ کے لیے پرامن رہے۔ اس کے بدلے میں ایران اعتماد سازی کے اقدامات کرے اور پابندیاں اٹھا لی جائیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک امریکی عوام کو دشمن نہیں سمجھتا، ہم ایرانی عوام کے خلاف امریکی حکومت کی پالیسیوں کو معاندانہ پالیسیاں سمجھتے ہیں۔ جب یہ معاندانہ کارروائیاں رک جائیں گی تب شاید ہم ایک مختلف قسم کے تعلقات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
میزبان نے ایرانی وزیر خارجہ سے پوچھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر یہ پروگرام دیکھتے ہیں۔ آپ کا صدر اور کانگریس کے ارکان کے لیے کیا پیغام ہے؟۔ عباس عراقچی نے جواب دیا کہ پیغام یہ ہے کہ سابق امریکی حکومتوں نے ہمارے خلاف تقریباً وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتی تھیں، جنگ، پابندیاں، ٹرگر میکانزم اور باقی سب کچھ۔ لیکن اس میں سے کسی کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اگر آپ ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔ لیکن اگر آپ ہم سے طاقت کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی طریقے سے جواب دیں گے۔ میرا خیال ہے کہ ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک باوقار قوم ہیں۔ ہم صرف احترام کی زبان میں جواب دیتے ہیں۔ ہم سے اسی طرح بات کی جانی چاہیے اور وہ اس کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan