
قاہرہ،20فروری(ہ س)۔مصر میں ایٹمی توانائی کی اتھارٹی سے وابستہ ایک خاتون انجینئر کے المیے نے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ کچھ راہ گیروں نے مذکورہ خاتون کو ملک کے جنوب میں واقع صوبے جیزہ کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر سوتا ہوا دیکھا۔سوشل میڈیا پر 66 سالہ ’لیلیٰ‘ نامی خاتون کی کہانی گردش کر رہی ہے جو ایٹمی علوم کی ماہر انجینئر ہیں۔ انھیں مکان مالک کے لالچ کی وجہ سے ان کے اپارٹمنٹ سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ گذشتہ 8 ماہ سے زائد عرصے سے فٹ پاتھ پر بے گھر اور دربدر زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معمر انجینئر قدیم کرایہ داری کے نظام کے تحت ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھیں، تاہم کرایے کی قیمت میں اضافے کی خواہش پر ان کا مکان مالک کے ساتھ تنازع پیدا ہو گیا جو ان کی بے دخلی پر ختم ہوا۔ اس دوران مکان مالک کی جانب سے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور وہ اپنی ذاتی اشیاءاور اہم دستاویزات سے بھی محروم ہو گئیں۔معلومات کے مطابق، ’ایٹمی سائنس دان‘پورے 8 ماہ تک بے گھر رہیں، جہاں وہ فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے اور سڑک کی سختیوں کا سامنا کرنے پر مجبور تھیں۔ یہ حقیقت جاننے پر عوام میں شدید حیرت اور ہمدردی کی لہر دوڑ گئی۔پہلے سرکاری رد عمل میں، جیزہ کی سوشل سالیڈیرٹی ڈائریکٹوریٹ نے اس تکلیف کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی۔مقامی میڈیا کے مطابق مرکزی ریپڈ انٹروینشن ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور انجینئر لیلیٰ کے ساتھ فوری طور پر معاملہ طے کیا۔یہ بھی بتایا گیا کہ معمر انجینئر کو صوبہ جیزہ میں ہیومنٹیرین ریلیشنز ایسوسی ایشن کے تحت چلنے والے ’دار الخیر‘ منتقل کرنے کے لیے مکمل ہم آہنگی کر لی گئی ہے، جہاں انہیں تمام ضروری سماجی، نفسیاتی اور طبی نگہداشت فراہم کی جائے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan