
واشنگٹن،20فروری(ہ س)۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (ڈبلیو ایس جے) نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو کسی معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے اس کے خلاف ابتدائی طور پر محدود حملے پر غور کر رہے ہیں۔اخبار نے آج جمعے کے روز واضح کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی حملے میں فوجی اور سرکاری مقامات شامل ہو سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے انکار کر دیا تو واشنگٹن اس کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا سہارا لے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ اگلے 10 سے 15 دنوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ ایران پر حملہ کرنا ہے یا نہیں، جبکہ دونوں دیرینہ حریفوں کے درمیان تناو¿ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ صدارتی طیارے (ایئر فورس ون) پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ 10 سے 15 دن کی مدت کافی ہو گی، اور یہ تقریباً آخری حد ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا ’یا تو ہم کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، یا پھر یہ ان کے لیے افسوسناک ہوگا‘۔اس سے قبل واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تشکیل کردہ متنازع 'بورڈ آف پیس' کے پہلے اجلاس میں خطاب کے دوران ایرانی قیادت کو متنبہ کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ’ہو سکتا ہے ہمیں اس سے آگے قدم اٹھانا پڑے، اور شاید نہیں۔ ہو سکتا ہے ہمارا (تہران کے ساتھ) کوئی معاہدہ ہو جائے۔ آپ کو غالباً اگلے 10 دنوں میں اس کا پتہ چل جائے گا‘۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنا جاری نہیں رکھ سکتا اور اسے معاہدہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی سنجیدہ جوہری معاہدہ نہ ہوا تو برے حالات پیدا ہوں گے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کیے ہیں، بشمول رواں ہفتے جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے ہر صورت روکنا ہوگا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر بنیادی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب تہران، جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی سختی سے تردید کرتا ہے، اس بات کا اشارہ دے چکا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے سویلین جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے اٹھائے گئے دیگر مسائل، جیسے کہ اپنے میزائل ذخائر میں کمی یا مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے پر مذاکرات نہیں کرے گا۔امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دو دور رواں ماہ (6 اور 17 فروری 2026) کو مسقط اور جنیوا میں ہو چکے ہیں۔ یہ دونوں ادوار ایک ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کے قریب تعینات تھے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر حملے کی صورت میں علاقائی جنگ چھڑ جائے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan