
جذباتی جوناتھن ٹراٹ نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفر کو الوداع کہا، اتفاق سے کوچنگ کا سفر شروع ہوا تھا
چنئی، 20 فروری (ہ س)۔ افغانستان کے ہیڈ کوچ جوناتھن ٹراٹ نے 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم کے آخری گروپ میچ کے بعد اپنی مدت کار کو جذباتی انداز میں الوداع کہا۔ کینیڈا کے خلاف جیت کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں 44 سالہ ٹراٹ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان کے ساتھ ان کا سفر ’’اتفاق سے شروع ہوا‘‘، لیکن یہ تجربہ ان کی زندگی کے سب سے اطمینان بخش ابواب میں سے ایک رہا۔
افغانستان نے اپنے آخری گروپ میچ میں کینیڈا کو ہرایا۔ اس مقابلے میں ابراہیم زدران 95 رن کی ناٹ آوٹ اننگز کھیل کر پلیئر آف دی میچ بنے۔ انہوں نے اپنا ایوارڈ کوچ ٹراٹ کے نام کیا اور الوداعی پریس کانفرنس کے دوران سامنے بیٹھ کر اپنے کوچ کو جذباتی ہوتے دیکھا۔ جوناتھن ٹراٹ نے 2022 میں افغانستان ٹیم کی کمان سنبھالی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بنیادی طور پر یہ عہدہ گراہم تھارپ کو سنبھالنا تھا، لیکن حالات کے سبب وہ یہ ذمہ داری نہیں لے سکے۔ اس کے بعد ٹراٹ کو یہ موقع ملا۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے یہ موقع اتفاق سے ملا۔ گراہم تھارپ نے میرے کوچنگ کریئر کی ترقی میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔ جب یہ ذمہ داری ملی تو میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے قبول کیا اور پوری لگن سے کام کیا۔‘‘ ٹراٹ نے اپنی مدت کار کی کئی یادگار کامیابیوں کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے ورلڈ کپ میں پہلی بار پاکستان کو ہرایا، انگلینڈ کو شکست دی اور پاکستان، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں کے خلاف غیر ملکی سرزمین پر دو طرفہ سیریز جیتی۔
حالانکہ 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم 2024 جیسی کامیابی دہرانے میں کامیاب نہیں رہی، لیکن ٹراٹ نے نتائج سے زیادہ ٹیم کی انسانی ترقی کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار ابراہیم زدران، عظمت اللہ عمرزئی اور رحمن اللہ گرباز جیسے کھلاڑیوں کو دیکھا، تو ان کی صلاحیتوں نے متاثر کیا۔
ٹراٹ نے بتایا کہ افغانستان کی اصلی طاقت صرف ان کے اسپن گیند باز نہیں، بلکہ ٹیم کے طور پر ان کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ پہلی بار ٹیم کے ساتھ آئرلینڈ کے دورے پر گئے تھے، تب انہیں محسوس ہوا کہ کھلاڑیوں میں بے پناہ صلاحیت ہے، لیکن انہیں صرف ڈھانچے اور پیشہ ورانہ رویے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’تھوڑا سا ڈھانچہ، پیشہ ورانہ ذہنیت اور اعلیٰ معیار شامل کرنے سے بڑی تبدیلی آئی۔ آج کی ٹیم اور پہلے کی ٹیم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘‘
ٹراٹ نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ افغانستان کے کھلاڑی محدود وسائل میں کھیلتے ہیں۔ ان کے پاس مستقل ہوم گراونڈ، جدید اکیڈمیاں اور بنیادی ڈھانچے کی ویسی سہولیات نہیں ہیں جیسی دیگر بڑی ٹیموں کے پاس ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ان کھلاڑیوں کو جو سہولیات ملتی ہیں، اس کے مقابلے میں ان کی کارکردگی ناقابل یقین ہے۔ کئی کھلاڑیوں کو وہ تعلیم اور تربیت نہیں ملی جو مجھے ملی تھی، پھر بھی وہ 20 ہزار شائقین کے سامنے بین الاقوامی سطح پر دباو سنبھالتے ہیں۔ میں ہر کھلاڑی کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘
ٹراٹ نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑا اطمینان یہ دیکھنا رہا کہ کھلاڑیوں کی زندگی میدان کے باہر بھی بدلی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ان کھلاڑیوں نے نہ صرف اپنے کھیل سے، بلکہ اپنے خاندانوں کی تقدیر بدلنے کی سمت میں بھی قدم بڑھائے ہیں۔ نوجوان لڑکوں کو ذمہ دار نوجوانوں میں بدلتے دیکھنا میرے لیے بے حد اطمینان بخش رہا۔‘‘
افغانستان کی بلے بازی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ٹراٹ نے ٹیم میں گہرائی بڑھانے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مختلف حالات کے لیے متنوع متبادل تیار کرنا ضروری ہے، جیسے بائیں دائیں ہاتھ کا کامبی نیشن اور اضافی بلے بازی کے متبادل۔
اپنے اگلے قدم پر ٹراٹ نے فی الحال کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔ حالانکہ انگلینڈ ٹیم کے کوچ بننے کے امکان پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’میں نے اپنے کریئر کا بڑا حصہ انگلینڈ میں گزارا ہے۔ کسی دن اس ٹیم کی کوچنگ کرنے کا موقع ملے تو اچھا لگے گا، لیکن ابھی میں کچھ دن آرام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
جوناتھن ٹراٹ کی مدت کار اتار چڑھاو سے بھری رہی، لیکن انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ افغانستان کے ساتھ گزارے گئے یہ سال ان کی زندگی کی انمول یادیں بن کر رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن