مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو معتبر ڈیٹا، اخلاقی حکمرانی اور عوامی جوابدہی کے اصولوں پر قائم کیا جانا چاہیے: دیویندر فڑنویس
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو معتبر ڈیٹا، اخلاقی حکمرانی اور عوامی جوابدہی کے اصولوں پر قائم کیا جانا چاہیے: دیویندر فڑنویسنئی دہلی، 20 فروری (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے زور دے کر کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو معتبر ڈیٹا، اخلاق
POLITICS MAHA AI-FOOD-SECURITY


مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو معتبر ڈیٹا، اخلاقی حکمرانی اور عوامی جوابدہی کے اصولوں پر قائم کیا جانا چاہیے: دیویندر فڑنویسنئی دہلی، 20 فروری (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے زور دے کر کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو معتبر ڈیٹا، اخلاقی حکمرانی اور عوامی جوابدہی کے اصولوں پر قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی سمٹ کے خصوصی اجلاس ’’اے آئی میٹس ایگریکلچر: بلڈنگ فوڈ سکیورٹی اینڈ کلائمٹ ریزیلینس‘‘ کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ اے آئی کی اصل طاقت اس کی تکنیکی چمک دمک میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ بھارت کا اے آئی مشن شفاف نظام، شمولیت اور وسیع رسائی کو فروغ دینے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 5 کروڑ بھارتی شہری زراعت پر براہِ راست یا بالواسطہ انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس شعبے کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ فڑنویس نے نشاندہی کی کہ اے آئی مقامی موسمی اندازوں، کیڑوں کی روک تھام اور درست آبپاشی کے ذریعے اے آئی چھوٹے کسانوں کے لیے زرعی منظرنامہ بدل سکتا ہے۔مرکزی وزارتِ زراعت و کسان فلاح کے سکریٹری دیویش چترویدی نے بتایا کہ حکومت ایک مربوط اے آئی پلیٹ فارم تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے ‘مہاویستار’ جیسے ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب کسانوں کو عمومی ڈیٹا کے بجائے ان کی ‘فارمر آئی ڈی’ کی بنیاد پر ان کے کھیت اور فصل سے متعلق مخصوص رہنمائی فراہم کی جائے گی، جو ایک بٹن دبانے یا آواز کی مدد سے حاصل کی جا سکے گی۔ورلڈ بینک گروپ کے نائب صدر جوہانس زُٹ نے کہا کہ اگر بھارت زراعت میں اے آئی کا مؤثر استعمال کرتا ہے تو یہ پوری دنیا کے لیے مثال بنے گا اور اسے چھوٹے کسانوں کے لیے ایک ’’انقلابی لمحہ‘‘ قرار دیا۔ایم ایس سوامی ناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن کی صدر ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے زور دیا کہ اے آئی الگورتھمز کی تیاری میں خواتین کسانوں اور پسماندہ طبقات کو شامل رکھا جائے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی خود غیر جانبدار ہوتی ہے، اس کا اثر اس کے استعمال کے طریقے پر منحصر ہے۔اجلاس میں اجتماعی طور پر درست کاشتکاری، موسمیاتی استحکام، اوپن ایکو سسٹم اور عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔ واضح پیغام دیا گیا کہ ذمہ دار اور شمولیتی اے آئی ہی غذائی تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں بھارت کی زرعی سمت کا تعین کرے گی۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande