ہائی کورٹ کو اڑانے کی ایک بار پھر دھمکی ملی:سی جے آئی کے دورے سے پہلے مچی کھلبلی
جے پور، 20 فروری (ہ س)۔ ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کی جے پور بنچ کو جمعہ کو ایک بار پھر بم سے اڑانے کی دھماکے کی دھمکی دی گئی۔ اس بار دھمکی آمیز میل میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)س
High-Court-bomb-threat-


جے پور، 20 فروری (ہ س)۔ ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کی جے پور بنچ کو جمعہ کو ایک بار پھر بم سے اڑانے کی دھماکے کی دھمکی دی گئی۔ اس بار دھمکی آمیز میل میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)سوریہ کانت کے دورہ کو منسوخ کرنے کے خلاف براہ راست انتباہ دیا گیا ہے۔ میل میں لکھا گیا کی سی جے آئی کا دورہ منسوخ کروائیں، ہائی کورٹ کو دوپہر 12 بجے تک خالی کر دو، کیونکہ یہاں آر ڈی ایکس نصب کیا گیا ہے۔

اس اطلاع کے بعد پورے احاطے میں کھلبلی مچگئی اور فوری طور پر تلاشی مہم شروع کر دی گئی۔ گزشتہ چار ماہ میں یہ 10واں موقع ہے جب عدالت کو دھمکانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جے پور ساو¿تھ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجرشی راج کے مطابق دھمکی ملتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ڈی ایس) اور ڈاگ اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ کورٹ روم سے لے کر پارکنگ تک علاقے کےگوشے گوشے کی تلاشی لی گئی۔

تقریباً دو گھنٹے کی تلاش کے بعد بھی جب کوئی مشکوک چیز نہیں ملی تو انتظامیہ نے راحت کی سانس لی۔ تلاشی کی وجہ سے عدالتی کام میں خلل پڑا، اور سماعت ساڑھے 10 بجے کے بجائے تقریباً 11 بجے شروع ہوئی، دریں اثنا، پولیس کی سائبر ٹیم دھمکی آمیز ای میلز کی چھان بین کر رہی ہے تاکہ وہ آئی پی ایڈریس کا تعین کیا جا سکے جہاں سے انہیں بھیجا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت جمعہ کو جے پور کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دھمکی کا مقصد اس دورے کو نشانہ بنانا تھا۔ اسی طرح کی ایک ای میل جمعرات کو موصول ہوئی تھی، جس نے سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکنا کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ پہلی ای میل 31 اکتوبر 2025 کو آئی تھی، اس کے بعد 5، 8، 9، 10 اور 11 دسمبر کو دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ 2026 میں بھی ای میل 6، 17 اور 19 فروری کے بعد اب یہ حرکت پھر سے دہرائی گئی۔

سائبر لاءکے ماہر آدرش سنگھل کے مطابق ملزمان اپنی شناخت چھپانے کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این ) کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ آئی پی ایڈریس اکثر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جس سے ان کے مقامات کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ملزم کا سراغ لگانے کے لیے وی پی این فراہم کنندگان سے ڈیٹا حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن یہ ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande