
نیویارک،20فروری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں غزہ کے لیے قائم کردہ امن کونسل کا پہلا اجلاس جمعرات کے روز شروع ہوا۔ اس کونسل میں 45 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ غزہ کے مستقبل سے متعلق حل طلب مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔اپنے افتتاحی خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ اور مشرق وسطیٰ کے شاندار مستقبل کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہچکچاہٹ کا شکار ممالک بھی جلد امن کونسل میں شامل ہو جائیں گے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ وہاں ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی صدر نے زور دیا کہ امن کا حصول مشکل ہے لیکن ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں گڈ گورننس کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا اور انکشاف کیا کہ چین اور روس بھی ان کوششوں میں شریک ہوں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ امن کونسل کے لیے 10 ارب ڈالر کا حصہ ڈالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 9 ارکان نے غزہ ریلیف پیکج کے لیے سات ارب ڈالر فراہم کرنے کے عہد کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی صدر نے اقوام متحدہ کو ایک انتہائی اہم تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالآخر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی، انہوں نے اقوام متحدہ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کا بھی عزم کیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ جلد ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے بات کریں گے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ خطاب واشنگٹن میں واقع ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں شرکائ سے خطاب میں ے کیا۔ یہ وہ عمارت ہے جس کا نام حال ہی میں صدر نے اپنے نام پر رکھا ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ ناروے نے امن کونسل کے ایک پروگرام کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔امن کونسل کے اجلاس میں جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز اور غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادی نوف سمیت دیگر شخصیات خطاب کریں گی۔ توقع ہے کہ ٹونی بلیئر کونسل میں اہم کردار ادا کریں گے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے بلائے گئے اس امن کونسل اجلاس نے وسیع بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اس میں اسرائیل تو شامل ہے لیکن فلسطینی نمائندے شامل نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اس تجویز نے کہ یہ کونسل مستقبل میں غزہ سے ہٹ کر دیگر عالمی چیلنجز پر بھی کام کرے گی، ان خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ اس سے عالمی سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کا مرکزی کردار کمزور پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ حماس کے جنگجوو¿ں کو غیر مسلح کرنا ایک بڑا اختلافی نکتہ ہے تاکہ امن برقرار رکھنے والی فورسز اپنا مشن شروع کر سکیں۔ حماس اسرائیلی انتقامی کارروائیوں کے خوف سے اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے بہت کم آمادگی ظاہر کر رہی ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنا صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اکتوبر سنہ 2025ءایک کمزور جنگ بندی ہوئی تھی۔امن کونسل کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غزہ پلان کو سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ عہدیدار نے وضاحت کی کہ غزہ میں سکیورٹی کا قیام دیگر شعبوں میں پیش رفت کے لیے بنیادی شرط ہے، لیکن پولیس فورسز ابھی تیار ہیں اور نہ ہی انہیں کافی تربیت دی گئی ہے۔عہدیدار نے مزید کہا کہ ابھی یہ اہم سوال بھی حل طلب ہے کہ حماس سے مذاکرات کون کرے گا؟۔ امن کونسل کے نمائندے حماس پر اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک بالخصوص قطر اور ترکیہ کے ذریعے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ امن کونسل کے سامنے ایک بڑا مسئلہ امداد کی فراہمی بھی ہے جسے عہدیدار نے تباہ کن قرار دیتے ہوئے اس میں فوری اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امداد بڑے پیمانے پر آ بھی جائے تو اب بھی یہ واضح نہیں کہ اسے تقسیم کون کرے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan