اتراکھنڈ: شیخ الہند ایجوکیشنل چیریٹیبل ٹرسٹ اراضی معاملے میں 193 لوگوں کو نوٹس جاری، پانچ کی منظوری منسوخ
دہرادون، 20 فروری (ہ س)۔ دہرادون ضلع انتظامیہ نے اتراکھنڈ میں شیخ الہند ایجوکیشنل چیریٹیبل ٹرسٹ سے جڑے زمین کی خرید و فروخت کے معاملے میں کارروائی شروع کر دی ہے۔ انتظامیہ نے مبینہ طور پر حقائق چھپانے اور زمین کے استعمال میں تبدیلی (دفعہ 143) کرانے
Dehradun-land-dispute-notice


دہرادون، 20 فروری (ہ س)۔ دہرادون ضلع انتظامیہ نے اتراکھنڈ میں شیخ الہند ایجوکیشنل چیریٹیبل ٹرسٹ سے جڑے زمین کی خرید و فروخت کے معاملے میں کارروائی شروع کر دی ہے۔ انتظامیہ نے مبینہ طور پر حقائق چھپانے اور زمین کے استعمال میں تبدیلی (دفعہ 143) کرانے والے پانچ افراد کی منظوری منسوخ کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ 193 افراد کو ٹرسٹ کی طرف سے دی گئی پاور آف اٹارنی کے ذریعے فروخت کی گئی اراضی کے حوالے سے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

وکاس نگر کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ ونود کمار نے جمعہ کوبتایا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنا موقف پیش کریں۔ 27 فروری تک جواب طلب کیا گیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

انتظامیہ اس بات کی بھی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا ٹرسٹ کے اصول و ضوابط پر عمل کیا گیا اور کیا زمین کے لین دین سے ٹرسٹ کو کوئی مالی فائدہ پہنچا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انتظامی ذرائع کے مطابق تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پاور آف اٹارنی کے ذریعے زمین کی فروخت کے عمل میں کوئی بے ضابطگی ہوئی یا حقائق کو چھپایا تو نہیں گیا ہے۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ کیا زمین کے خریداروں سے کوئی عدالتی ہدایات کوچھپایا گیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ ٹرسٹ مولانا محمود مدنی کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیخ الہند ایجوکیشنل چیریٹیبل ٹرسٹ کو اسلامی تعلیمی ادارے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ انتظامیہ اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا دہلی میں رجسٹرڈ ٹرسٹ کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ چیریٹیبل ٹرسٹ کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی۔ اگر فروخت کیا جاتا ہے تو، ٹرسٹیز کی بورڈ میٹنگ میں تحریری رضامندی درکار ہوتی ہے اور یہ رضامندی ہر سیل ڈیڈ میں شامل ہونی چاہیے۔ ٹرسٹ کا بیان کردہ مقصد ایک اسلامی تعلیمی ادارہ قائم کرنا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق، خیراتی ٹرسٹ عام طور پر ”نوپرافٹ، نولاس“ کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ اس لیے، ٹرسٹ جائیدادوں کی فروخت کے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز سے باضابطہ منظوری درکار ہوتی ہے اور یہ متعلقہ سیل ڈیڈ میں بیان کیا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande