
گلمرگ (جموں و کشمیر)، 19 فروری (ہ س)۔
کھیلو انڈیا نیتی کا حقیقی اثر گلمرگ میں 23 سے 26 فروری تک منعقد ہونے والے کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں 2026 کے دوران نظر آئے گا۔ مرکزی وزارت کھیل کی اس پالیسی کا مقصد کھیلوں کے ذریعے سیاحت، بنیادی ڈھانچے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
گلمرگ میں ہونے والے ان کھیلوں میں سرمائی اولمپئن سمیت ملک کے ٹاپ اسکائیرز حصہ لیں گے۔ یہ ایونٹ نہ صرف کھیلوں کے ٹیلنٹ کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا بلکہ کھیلوں کی سیاحت کو بھی فروغ دے گا۔ فروری کے تیسرے ہفتے میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمائی کھیلوں سے خطے کی معیشت کو خاصی راحت ملی ہے۔
سیاحت اور مقامی کاروبار پھر سے فروغ پا رہے ہیں
مقامی ہوٹل والے عابد، جو ٹنگمرگ میں شین ووڈس ہوٹل کے مالک ہیں، کہتے ہیں کہ بکنگ کھیلوں سے کئی ہفتے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ بقول ا±ن کے، یہ صرف سیاحت نہیں، یہ ہماری پہچان ہے۔ جب گیمز منعقد ہوتے ہیں تو گلمرگ ملک کا دل بن جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش، ہریانہ، کیرالہ، تلنگانہ، اور جموں و کشمیر کے کھلاڑی ہوٹل کی لابی میں قیام کر رہے ہیں، جس سے تنوع اور جوش کا ماحول ہے۔
محکمہ سیاحت کے مطابق گلمرگ میں ہوٹلوں اورہیٹوںمیں لگ بھگ 2,300 بستر ہیں جن میں سے 50 فیصد سے زیادہ کی پیشگی بکنگ ہوچکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار مارچ کے آخر میں جاری کیے جائیں گے، لیکن محکمہ کا کہنا ہے کہ اس سال سیاحوں کی تعداد پہلے ہی 2025 کے اعداد و شمار کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
مشکل مدت کے بعد بحالی
اپریل 2025 میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیر میں سیاحت متاثر ہوئی تھی۔ جب کہ 2024 میں تقریباً 26لاکھ سیاحوں نے یہاں کا دورہ کیا تھا، لیکن 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 1.047 لاکھ رہ گئی۔ تاہم، نئے سال کے بعد اور کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کی تیاریوں کے ساتھ، سیاحوں کی آمدورفت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
کھیل اور معاش کا سنگم
اس سال، گلمرگ اسکی کوہ پیمائی، الپائن اسکیئنگ، نورڈک (کراس کنٹری) اسکیئنگ، اور اسنو بورڈنگ میں چار تمغوں کے مقابلوں کی میزبانی کرے گا۔ ڈھلوانوں پر مقامی سلیج کھینچنے والوں کے چہروں پر خوشی عیاں ہے۔ الطاف حسین اور محمد رفیق جیسے کارکن فی سیاح 500 سے 1500 روپے کماتے ہیں اور گیمز کے دوران ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
23 فروری سے شروع ہونے والے یہ کھیل نہ صرف کھلاڑیوں اور کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک جشن ہوں گے بلکہ ہمالیہ میں آباد گلمرگ کے باشندوں کے لیے نئی معاشی اور سماجی امیدیں بھی لے کر آئیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ