
نئی دہلی ، 19 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ نابالغ کے ساتھ چھیڑچھاڑ اورجنسی استحصال کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کوخارج کئے جانے پر متاثر کی والدہ نے خوشی اور راحت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکم سے انصاف پر ان کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
واضح ہو کہ پچھلے سال مارچ میں اپنے فیصلے میں، الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ نابالغ متاثرہ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کو عصمت دری کی کوشش نہیں سمجھا جا سکتا ہے اور یہ عصمت دری کی صرف تیاری تھی۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نیٹ ورک جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف متاثرہ کی جانب سے فوری طور پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست کی سماعت کرتے ہوئے، چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی، اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے واضح طور پر غلط اور مجرمانہ تعزیری قانون کے قائم کردہ اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی ، سپریم کورٹ نے جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پاکسو) ایکٹ کے تحت دونوں ملزمان کے خلاف پہلے درج عصمت دری کی کوشش کے الزام کو بحال کر دیا۔
متاثرہ ، جس کی عمر اس واقعے کے وقت صرف 11 سال تھی،کی والدہ نے کہا، ”اس فیصلے سے میرا یہ یقین بحال ہوا ہے کہ قانون بچوں اور متاثرین کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب کسی بچے کو اپنے ساتھ ہوئے استحصال کا یقین دلانے کے لئے ٹھوکر نہیں کھانی پڑے گی اور اس فیصلے سے بہت سے ایسے بچوں کی مدد ہو گی جو آواز نہیں اٹھا پار رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ جے آر سی ان کے ساتھ تب کھڑا ہوا، جب انہیں لگ رہا تھا کہ وہ بے بس ہیں اور کوئی ان کی آواز نہیں سنے گا۔ ان کی حمایت نے ہم انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی ہمت رکھ سکے۔
نومبر 2021 میں اترپردیش کے کاس گنج میں دو نوجوان ایک 11 سالہ نابالغ لڑکی کو زبردستی ایک پل کے نیچے گھسیٹ کر لے گءے اور اس کے کپڑے اتارنے کی کوشش کی۔ بچی کے رونے کی آواز سن کر دو راہگیر جائے وقوعہ پر پہنچے جس کے بعد دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ اس معاملے میں اپنے مارچ 2025 کے فیصلے میں، الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا، ”یہ عمل عصمت دری کے لیے محض ایک 'تیاری' ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ’ریپ کی کوشش‘ یا’ریپ‘ ہے۔“ اس فیصلے کے سبب الزامات کی سنگینی کافی کم ہو گئی ۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ اورحفاظت کے لیے 250 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کا ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک جسٹ رائٹ فار چلڈرن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا اور متاثرہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں خصوصی چھٹی کی درخواست دائر کی۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے اس طرح کے معاملات میں زیادہ حساسیت کو یقینی بنانے کے لیے رہنما خطوط قائم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
ہائی کورٹ کے احکامات کو پلٹتے ہوئے، سپریم کورٹ نے نیشنل جوڈیشیل اکیڈمی، بھوپال کو ہدایت دی کہ وہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے کمزور متاثرین کے مقدمات کی سماعت کے دوران ججوں اور عدالتی عمل میں حساسیت پیدا کرنے کے لئے ایک جامع رہنما خطوط تیار کرنے کے لئے ایک کمیتی تشکیل دے۔ کمیٹی سے تین مہینے میں یہ رپورٹ تیار کرنے اور سپریم کورٹ کو سونپنے کی درخواست کی گئی ہے۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی جانب سے متاثرہ کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ایچ ایس پھولکا نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا،”یہ بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی طرف ایک دور رس فیصلہ ہے۔ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ عدالتی بحث میں متاثرین کے خلاف کسی قسم کے امتیاز یا تعصب کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم اس فیصلے کے لیے بنچ کے شکر گزار ہیں۔“ سپریم کورٹ نے گائیڈ لائن بنانے میں نیٹ ورک سے تجاویز بھی طلب کی ہیں۔
دریں اثنا، بچوں کے حقوق کے قومی کنوینر روی کانت نے کہا، ”یہ فیصلہ جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے انصاف، وقار اور حساسیت کو یقینی بنانے کے لیے ہماری طویل اور پرعزم جدوجہد کا نتیجہہے۔ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس نے عدالتی نظام پر اعتماد بحال کیاہے اور اس یقین کو تقویت دی ہے کہ بچوں اور کمزور پس منظر کے لوگوں کے خلاف جرائم کو سنجیدگی اور مطلوبہ حساسیت کے ساتھ دیکھا جائے گا۔ “
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد