
بہار میں ریلوے ملازم کا قتل، بدمعاشوں نے کھیت میں گولی مار کر ہلاک کیالکھی سرائے، 19 فروری (ہ س)۔ بہارکے لکھی سرائے ضلع کے پیری بازار تھانہ علاقے کے گھونگھی گاؤں میں بدھ کی شام ایک واقعہ پیش آیا۔ ریلوے میں گروپ ڈی کے عہدہ پر تعینات 35 سالہ سنتوش کمار عرف دلیپ کمار کا بدمعاشوں نے گولی مارکر قتل کر دیا۔ وہ مغربی بنگال میں محکمہ ریلوے میں گروپ ڈی پر تعینات تھا۔ وہ چھٹی پر اپنے گاؤں آیا تھا، جہاں وہ اپنے کھیت میں سرسوں کی کٹائی کر رہا تھا۔ واقعہ شام 6 بجے کے قریب پیش آیا، جب سنتوش کمار اپنے کھیت میں فصل کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس دوران پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے نامعلوم بدمعاشوں نے فائرنگ کر دی جس میں کئی گولیاں اس کے جسم پر لگیں۔ حملہ کے بعد بدمعاش فرار ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی اہل خانہ اور گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمی ریلوے ملازم کو فوری طور پر لکھی سرائے صدر اسپتاللے گئے لیکن راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔ اسپتال پہنچنے پر اہل خانہ کو پوسٹ مارٹم کے لیے کافی انتظار کرنا پڑا۔ پولیس نے تقریباً چار گھنٹے تک لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نہیں بھجوایا جس سے اہل خانہ اور گاؤں والوں میں ناراضگی ہے۔ صدر اسپتال احاطے میں سینکڑوں افراد نے ہنگامہ آرائی کی اور لاش کو باہر سڑک پر لے گئے۔ مشتعل لواحقین نے لاش لے کر قومی شاہراہ 30کو جام کر دیا۔ہنگامہ آرائی کی اطلاع ملتے ہی لکھی سرائے کے سب ڈویژنل پولیس افسر (ڈی ایس پی) شیوم کمار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے اہل خانہ سے بات کی اور انہیں 24 گھنٹے کے اندر قاتلوں کو تلاش کرنے اور گرفتار ی کی یقین دہانی کرائی۔ ڈی ایس پی کی یقین دہانی کے بعد اہل خانہ پرسکون ہوئے۔ تقریباً دو گھنٹے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے اور کارروائی مکمل کی گئی۔لکھی سرائے پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ڈی ایس پی شیوم کمار نے بتایا کہ مقتول سنتوش کمار چھٹی پر گاؤں آیا تھا اور کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے اور قاتلوں کو جلد پکڑنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔اس قتل سے گاؤں والوں اور اہل خانہ میں غم و غصہ ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ قتل سیاسی یا ماضی کی دشمنی کی وجہ سے ہوا ہو گا۔ لواحقین نے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan