
ممبئی ، 19 فروری (ہ س)۔ سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے طیارہ حادثے کو لے کر پیدا ہونے والے تنازعے کے بیچ، راشٹر وادی کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے ایم ایل اے روہت پوار کی سکیورٹی بڑھانے کی مانگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس معاملے پر اب تک کوئی سرکاری مؤقف ظاہر نہیں کیا ہے۔
پارٹی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سلے نے جمعرات کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اجیت پوار کی حادثاتی موت نے پوار خاندان کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اب تک اس سانحے سے باہر نہیں آ سکے ہیں۔ روہت پوار، جو کہ اجیت پوار کے بھتیجے ہیں، نے حادثے کے کئی تکنیکی پہلوؤں پر سوال اٹھائے ہیں اور شبہات کا اظہار کیا ہے۔ مزید یہ کہ اس حادثے میں بلیک باکس جل کر ختم ہو جانے کی خبر بھی سامنے آئی ہے، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
سپریا سلے کے مطابق اس واقعے کی باریک بینی سے چھان بین ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص اس معاملے کو اجاگر کر رہا ہے، اس کی سکیورٹی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر روہت پوار کی سکیورٹی کا جائزہ لیں اور اسے بڑھانے کے احکامات جاری کریں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ حادثے کو قریب بیس دن گزر چکے ہیں، لیکن تفتیشی اداروں کی جانب سے عوام کو کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اگر اس خاموشی کا سلسلہ جاری رہا تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پورے معاملے کو شفافیت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔
قبل ازیں سابق مرکزی وزیر اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے کارگزار صدر پرفل پٹیل نے کہا تھا کہ بلیک باکس جل کر تباہ ہو چکا ہے اور اسے امریکہ کی ایک لیبارٹری میں بھیجا جائے گا تاکہ تمام دستیاب معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ادھر اجیت پوار کے فرزند جئے پوار نے بھی جمعرات کو اپنے شکوک کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بلیک باکس کو انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے، اس کے جل جانے کی خبر خود سوالیہ نشان ہے، خاص طور پر اس لیے کہ حادثے میں اجیت پوار کے کاغذات نہیں جلے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت اور آدتیہ ٹھاکرے نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے